خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 166 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 166

166 خطبات مسرور جلد ششم خطبہ جمعہ فرمودہ 18 اپریل 2008 اسلام پر اعتراض کرنے والے یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اسلام نعوذ باللہ تلوار سے پھیلا ہے جو بالکل غلط اور جھوٹا الزام ہے۔کون سی دنیاوی طاقت تھی جنگ اُحد میں ، جنگ بدر میں ، جنگ احزاب میں جس نے مدد کی۔نہ لڑنے کا پورا اسلحہ تھا، نہ کھانے کے لئے کوئی خوراک تھی لیکن جس طاقت نے جتایا وہ آنحضرت ﷺ کی دعا ئیں تھیں۔آنحضرت ﷺ کی وہ دعائیں ہی تھیں، جن کو اللہ تعالیٰ نے قبول فرمایا اور فتح عطا فرمائی اور پھر آنحضرت ﷺ کی قوت قدسی کی وجہ سے صحابہ کا اللہ تعالیٰ سے تعلق تھا جس نے ان کے ایمانوں کو مضبوط کیا۔پس یہ اس فانی فی اللہ کی دعائیں ہی تھیں جس نے دنیا میں ایک انقلاب برپا کر دیا۔یہ اُسوہ آنحضرت اللہ نے ہمارے سامنے قائم فرما دیا کہ اسلام کی فتح کسی طاقت سے نہیں بلکہ دعاؤں سے ہونی ہے اور ہوئی ہے۔طاقت سے ملک تو فتح ہو جاتے ہیں دل نہیں جیتے جاتے۔پس آپ نے اپنے ہم قوموں کے دل جیتنے ہیں تا کہ انہیں خدا تعالیٰ کے حضور پیش کر سکیں اور اس کے لئے سب سے پہلے اپنے آپ کو اس قابل بنانا ہو گا کہ اپنی نمازوں اور عبادتوں کی حفاظت کریں۔یہ سال جس میں جماعت ، خلافت کے 100 سال پورے ہونے پر جوبلی منا رہی ہے، یہ جو بلی کیا ہے؟ کیا صرف اس بات پر خوش ہو جانا کہ ہم جو بلی کا جلسہ کر رہے ہیں یا مختلف ذیلی تنظیموں نے اپنے پروگرام بنائے ہیں، یا کچھ سونیئر ز بنالئے گئے ہیں۔یہ تو صرف ایک چھوٹا سا اظہار ہے۔اس کا مقصد تو ہم تب حاصل کریں گے ، جب ہم یہ عہد کریں کہ اس 100 سال پورے ہونے پر ہم یہ عہد کرتے ہیں کہ اس نعمت پر جو خلافت کی شکل میں اللہ تعالیٰ نے ہم پر اتاری ہے، ہم شکرانے کے طور پر اپنے خدا سے اور زیادہ قریبی تعلق پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔اپنی نمازوں اور اپنی عبادتوں کی حفاظت پہلے سے زیادہ بڑھ کر کریں گے اور یہی شکران نعمت اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو مزید بڑھانے والا ہوگا۔قرآن کریم میں جہاں مومنوں سے خلافت کے وعدے کا ذکر ہے۔اس سے اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَأَقِيمُوا الصَّلوةَ وَاتُوا الزَّكَوةَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ (النور : 57) اور تم سب نمازوں کو قائم کرو، زکوۃ دو اور اس رسول کی اطاعت کرو تا کہ تم پر رحم کیا جائے۔پس یہ بات ثابت کرتی ہے کہ خلافت کے انعام سے فائدہ اٹھانے کے لئے قیام نماز سب سے پہلی شرط ہے۔پس میں جو یہ اس قدر زور دے رہا ہوں کہ ہر احمدی، مرد، جوان ، بچہ عورت اپنی نمازوں کی طرف توجہ دے تو اس لئے کہ انعام جو آپ کو ملا ہے اس سے زیادہ سے زیادہ آپ فائدہ اٹھا سکیں۔اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے یہ وعدہ کیا ہے اور آنحضرت ﷺ کی پیشگوئیوں کے مطابق خلافت کا یہ سلسلہ تو ہمیشہ رہنے والا ہے لیکن اس سے فائدہ وہی حاصل کریں گے جو خدا تعالیٰ سے اپنی عبادتوں کی وجہ سے زندہ تعلق جوڑیں گے۔پھر یہ جو آیت میں نے پڑھی ہے اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نماز قائم کرنے