خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 64 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 64

خطبات مسرور جلد پنجم 64 خطبہ جمعہ 09 فروری 2007 ء پرند چرند کو اپنے فیض سے مستفیض کر رہی ہیں۔بلکہ صفت ربوبیت تو تمام حیوانات اور نباتات اور جمادات اور اجرام ارضی اور سماوی کو فیض رسان ہے۔جو حیوان ہیں جاندار ہیں ان کو بھی ، پودوں کو بھی ، دوسری غیر جاندار چیزیں ہیں ان کو بھی بلکہ تمام کا ئنات میں جتنے بھی ستارے، سیارے ہیں اور جو کچھ بھی ہے وہ سب اس سے فیض پا رہا ہے اور کوئی چیز اس کے فیض سے باہر نہیں۔برخلاف صفت رحیمیت کے کہ وہ انسان کے لئے ایک خلعت خاصہ ہے۔“ انسان کے لئے ایک ایسی چیز ہے، ایک ایسا لباس ہے، ایک ایسا انعام ہے۔جو صرف انسان کے لئے خاص ہے اور اگر انسان ہو کر اس صفت سے فائدہ نہ اٹھا وے تو گویا ایسا انسان حیوانات بلکہ جمادات کے برابر ہے۔اگر انسان صفت رحیمیت سے فیض نہیں اٹھارہاتو پھر وہ انسان نہیں ہے بلکہ وہ جانور کی طرح ہے یا بلکہ بے جان چیزوں کی طرح ہے۔پتھر اینٹ روڑے کی طرح ہے بلکہ جمادات کے برابر ہے۔” جبکہ خدا تعالیٰ نے فیض رسانی کی چار صفت اپنی ذات میں رکھی ہیں اور رحیمیت کو جو انسان کی دُعا کو چاہتی ہے خاص انسان کے لئے مقرر فرمایا ہے۔پس اس سے ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ میں ایک قسم کا وہ فیض ہے جو دعا کرنے سے وابستہ ہے اور بغیر دعا کے کسی طرح حمل نہیں سکتا۔یہ سنت اللہ اور قانون الہی ہے جس میں تخلف جائز نہیں۔یہی وجہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام اپنی اپنی امتوں کے لئے ہمیشہ دعا۔حقیقت یہ ہے کہ دعا پر ضرور فیض نازل ہوتا ہے جو ہمیں نجات بخشتا ہے۔اسی کا نام فیض رحیمیت ہے جس سے انسان ترقی کرتا جاتا ہے۔اس فیض سے انسان ولایت کے مقامات تک پہنچتا ہے اور خدا تعالیٰ مانگتے رہے۔پر ایسا یقین لاتا ہے کہ گویا آنکھوں سے دیکھ لیتا ہے۔“۔ايام الصلح روحانی خزائن جلد 14 صفحه 249-250 اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی صفت رحیمیت کا صحیح فہم و ادراک عطا فرمائے اور ہم اسے اس کے فضل سے ہم اسے اپنی زندگیوں میں لاگو کرتے ہوئے ، اس پر مکمل عمل کرنے والے بہنیں تا کہ اللہ تعالیٰ کے انعامات اور احسانات سے مزید لاگوکرتے حصہ پانے والے ہوں اور منعم علیہ گروہ میں شامل ہونے والے ہوں۔مطبوع الفضل انٹر نیشنل لندن مورخہ 2 تا 8 مارچ 2007ء ص 5 تا 7 )