خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 63
خطبات مسرور جلد پنجم 63 خطبہ جمعہ 09 فروری 2007 ء کہ قانون قدرت کا تعلق ہمیشہ سے دعا کا تعلق ہے۔بعض لوگ آج کل اس کو بدعت سمجھتے ہیں۔ہماری دعا کا جو تعلق خدا تعالیٰ سے ہے میں چاہتا ہوں کہ اسے بھی بیان کروں۔فرماتے ہیں کہ : ” ایک بچہ جب بھوک سے بیتاب ہو کر دودھ کے لئے چلا تا اور چیختا ہے تو ماں کے پستان میں دودھ جوش مار کر آ جاتا ہے۔بچہ دعا کا نام بھی نہیں جانتا۔لیکن اس کی چھینیں دودھ کو کیونکر کھینچ کر لاتی ہیں اس کا ہر ایک کو تجربہ ہے۔بعض اوقات دیکھا گیا ہے کہ مائیں دودھ کو محسوس بھی نہیں کرتیں۔مگر بچہ کی چلا ہٹ ہے کہ دودھ کو کھینچے لاتی ہے۔تو کیا ہماری چینیں جب اللہ تعالیٰ کے حضور ہوں تو کچھ بھی نہیں کھینچ کر لاسکتیں؟ آتا ہے اور سب کچھ آتا ہے مگر آنکھوں کے اندھے جو فاضل اور فلاسفر بنے بیٹھے ہیں وہ دیکھ نہیں سکتے۔بچے کو جو مناسبت ماں سے ہے اس تعلق اور رشتہ کو انسان اپنے ذہن میں رکھ کر دعا کی فلاسفی پر غور کرے تو وہ بہت آسان اور سہل معلوم ہوتی ہے۔دوسری قسم کا رحم یہ تعلیم دیتا ہے کہ ایک رحم مانگنے کے بعد پیدا ہوتا ہے مانگتے جاؤ گے ملتا جائے گا۔اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ (المؤمن : 61) کوئی لفاظی نہیں بلکہ یہ انسانی سرشت کا ایک لازمہ ہے۔مانگنا انسان کا خاصہ ہے۔اور استجابت اللہ تعالی کا۔جو نہیں سمجھتا اور نہیں مانتا وہ جھوٹا ہے۔بچہ کی مثال جو میں نے بیان کی ہے وہ دعا کی فلاسفی خوب حل کر کے دکھاتی ہے۔رحمانیت اور رحیمیت دو نہیں ہیں۔پس جو ایک کو چھوڑ کر دوسری کو چاہتا ہے اسے مل نہیں سکتا۔رحمانیت کا تقاضا یہی ہے کہ وہ ہم میں رحیمیت کے فیض اٹھانے کی سکت پیدا کرے جو ایسا نہیں کرتا وہ کا فرنعمت ہے۔“ (ملفوظات جلد اول صفحه 81-82 جدید ایڈیشن ) یعنی اللہ تعالیٰ نے جو سامان اپنی صفت رحمانیت کے تحت عطا فرمائے ہوئے ہیں ، جو انتظامات فرمائے ہوئے ہیں زندگی گزارنے کے، یہ جو مادی سامان ہیں یہ بھی اور جو روحانی سامان ہمیں مہیا فرمایا ہے اس کے لئے بھی جیسا کہ میں پہلے بھی بیان کر آیا ہوں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم میری نعمتوں کے شکر گزار ہو کیونکہ تم نعمتوں کا شمارتو کر نہیں سکتے۔اتنی زیادہ ہیں۔پس ان نعمتوں کا جو صفت رحمانیت کے تحت اللہ تعالیٰ نے ہمیں دی ہیں تقاضا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفت رحیمیت کے تحت ان سے مزید حصہ لینے اور ان کو جاری رکھنے کے لئے بھی اس کے حضور دعائیں کریں اور اس کے حقوق ادا کریں ، عبادت اور اعمال صالحہ بجالائیں۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام صفت الرَّحِیم کے بارے میں فرماتے ہیں کہ : یہ احسان دوسرے لفظوں میں فیض خاص سے موسوم ہے اور صرف انسان کی نوع سے مخصوص ہے۔دوسری چیزوں کو خدا نے دعا اور تضرع اور اعمال صالحہ کا ملکہ نہیں دیا مگر انسان کو دیا ہے۔انسان حیوان ناطق ہے اور اپنی نطق کے ساتھ بھی خدا تعالیٰ کا فیض پاسکتا ہے۔بولنے کی طاقت اللہ تعالیٰ نے دی ہے اور اپنے بولنے سے دعائیں مانگنے سے اللہ تعالیٰ کا فیض پاسکتا ہے۔دوسری چیزوں کو طق عطا نہیں ہوا۔پس اس جگہ سے ظاہر ہے کہ انسان کا دعا کرنا اس کی انسانیت کا ایک خاصہ ہے جو اس کی فطرت میں رکھا گیا ہے۔اور جس طرح خدا تعالیٰ کی صفات ربوبیت اور رحمانیت سے فیض حاصل ہوتا ہے اسی طرح صفت رحیمیت سے بھی ایک فیض حاصل ہوتا ہے۔صرف فرق یہ ہے کہ ربوبیت اور رحمانیت کی صفتیں دعا کو نہیں چاہتیں کیونکہ وہ دونوں صفات انسان سے خصوصیت نہیں رکھتیں اور تمام