خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 515 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 515

خطبات مسرور جلد پنجم 515 51 خطبہ جمعہ 21 دسمبر 2007ء فرمودہ مورخہ 21 دسمبر 2007ء بمطابق 21 فتح 1386 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح لندن (برطانیہ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے اس آیت کی تلاوت فرمائی رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمُ ايتكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتبَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (البقرة: 130) اس کا ترجمہ ہے کہ اور اے ہمارے رب! تو اُن میں انہی میں سے ایک عظیم رسول مبعوث کر جو ان پر تیری آیات کی تلاوت کرے اور انہیں کتاب کی تعلیم دے اور (اس کی) حکمت بھی سکھائے اور ان کا تزکیہ کر دے۔یقینا تو ہی کامل غلبے والا اور حکمت والا ہے۔یہ آیت جوئیں نے تلاوت کی ہے ، کل عید کے خطبہ پر بھی حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی دعا سے ضمن میں میں نے پڑھی تھی۔لیکن صرف اتنا ذکر ہوا تھا کہ ایک عظیم رسول کے دنیا میں آنے کی دعا حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے اللہ تعالیٰ کے حضور نہایت عاجزی سے کی۔اور اللہ تعالیٰ نے وہ عظیم رسول آنحضرت ﷺ کی صورت میں مبعوث فرمایا جس کی زندگی اور موت، قربانیاں اور عبادتیں مکمل طور پر اللہ تعالیٰ کے لئے ہو گئی تھیں۔وہ اللہ تعالیٰ کا بندہ جو انسان کامل کہلایا جو رسول بھی تھا اور جس کے مقام کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ افضل الرسل بھی ہے اور خاتم النبیین بھی ہے۔کل عید کے حوالے سے میں نے صرف قربانی کا ذکر کیا تھا کہ آپ نے قربانی کے بھی اعلیٰ معیار قائم کئے اور اپنے صحابہ میں بھی وہ روح پھونکی جس نے اپنی جان کو خدا کی امانت سمجھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹانے کی کوشش کی اور کسی بھی قسم کی قربانی سے بھی دریغ نہیں کیا۔لیکن اس آیت میں حضرت ابراہیم نے جو دعا کی تھی وہ چار باتوں کی تھی کہ میری نسل میں سے آنے والا نبی ان باتوں میں وہ معیار قائم کرے جو نہ پہلوں نے کبھی قائم کئے ہوں اور نہ بعد میں آنے والے اس تک پہنچ سکیں۔یعنی پہلوں میں تو اس لئے یہ اعلیٰ معیار قائم نہیں ہو سکتے کہ انسانی ذہن اور روحانیت کے معیار ابھی اس معراج تک نہیں پہنچ سکے تھے جن تک اللہ تعالیٰ نے انسانی ارتقاء کے ساتھ اسے پہنچانا تھا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی فراست اور یقیناً الہام سے بھی نظر آرہا تھا کہ انسان کی ذہنی علمی