خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 513 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 513

513 خطبہ جمعہ 14 دسمبر 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم تھا اور اُس کے حکم سے یہ سارے ظلم ہوتے تھے۔مکہ والوں کو یہ بتانے کے لئے بھی یہ پر حکمت فیصلہ تھا کہ تم جو اپنے آپ کو عقلمند سمجھتے تھے۔تم جو نام نہاد ابوالحکم کے پیچھے چل پڑے تھے جو حقیقت میں ابو جہل تھا۔تم جو خدا کو عزیز خیال نہیں کرتے تھے بلکہ اپنے بتوں کو ہر چیز پر غالب سمجھتے تھے آج دیکھ لو کہ حکمت اور عزت تمہارے پاس تمہارے سرداروں کے پاس یا تمہارے بتوں کے پاس ہے یا اس سے بے آسرا اور دنیا کی نظر میں اُس حبشی غلام کے پاس ہے جس نے اپنی فراست، دل کی صفائی اور حکمت سے اس نور کو پہچان لیا جو خدا کی طرف سے آیا اور جس کے مقدر میں غلبہ تھا۔پس آج اس غلام کے جھنڈے تلے آ جاؤ جو عزیز اور حکیم خدا کو مانتا ہے۔وہ بلال جس کی حکمت اپنے رب کے رنگ میں رنگین ہو کر مزید نکھر آئی ہے۔پس آج اس حکمت کو بھی سمجھ لو کہ طاقت کوئی چیز نہیں۔ظالم کبھی نہیں پنپتا اور کبھی ہمیشہ نہیں رہتا۔انسان کو اگر اشرف المخلوقات بنا کر اللہ تعالیٰ نے صاحب حکمت و فراست بنایا ہے تو اس کا صحیح استعمال کرو اور دوسرے انسان کے ذہن و دل اور مذہبی آزادی پر قبضہ نہ کرو۔دوسروں کے جذبات کا خیال رکھو کہ یہ نہ کرنا حکمت سے عاری لوگوں کی باتیں ہیں۔۔پس آنحضرت ﷺ نے یہ عمل دکھا کر قریش مکہ اور رؤسائے مکہ کو یہ باور کرا دیا کہ حکمت کا تقاضا یہی ہے کہ عزیز صرف خدا کی ذات کو سمجھو۔اگر کوئی حالات کی مجبوریوں کی وجہ سے تمہارے زیر نگیں ہے تو اس کو غلامی کی زنجیروں میں اس طرح نہ جکڑو کہ کل جب حالات بدل جائیں جس کا کسی کو علم نہیں کہ کل کیا ہونے والا ہے تو پھر تم زندگی کی بھیک مانگتے پھرو۔پس رسول اللہ ﷺ نے یہ اعلان فرما کر اس پر حکمت فیصلے سے جہاں قریش مکہ کو سزا سے بچایا وہاں عملاً یہ اعلان بھی فرما دیا کہ غلامی کا بھی آج سے خاتمہ ہے۔ظلموں کا بھی آج سے خاتمہ ہے۔آج لَا تَشُرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْم کا اعلان صرف میرا نہیں بلکہ میرے ماننے والوں کا بھی ہے۔ماننے والوں میں سے اُن کمزور لوگوں کا بھی ہے جو تمہاری غلامی کے عرصہ میں تمہارے ظلموں کی چکی میں پستے رہے۔اس حسین اور پُر حکمت فیصلے نے بلال کو بھی احساس دلا دیا کہ اے وہ کمزور انسان جس نے کئی سال پہلے فراست اور حکمت سے کام لیتے ہوئے اللہ کے پیغمبر ﷺ کو پہچانا تھا۔آج جب کہ تیری حکمت مزید نکھر آئی ہے ان سے یہ انتقام لے کہ جو تیرے جھنڈے تلے جمع ہوں انہیں اپنے جھنڈے تلے جمع کر کے محمد رسول اللہ کے جھنڈے تلے جمع کر اور جو تیرے آگے جھکنے والے ہیں۔جو تیرے قدموں پر جھکنے والے ہیں انہیں خدا تعالیٰ کے آگے جھکنے والا بنا دے۔اور پھر دنیا نے بعینہ یہ نظارہ دیکھا اور اسی طرح ہوتے دیکھا کہ وہ لوگ جو یہ ظلم کرتے تھے مسلمانوں پر اور اللہ کے مقابلے میں بت بنائے ہوئے تھے وہی اللہ کے آگے جھکنے والے بن گئے۔آج احمدی بھی یا درکھیں کہ انشاء اللہ تعالیٰ یہ نظارہ دہرایا جانے والا ہے اور ہم نے کسی سے دشمنی کا بدلہ ظلم اور