خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 478 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 478

478 خطبات مسرور جلد پنجم اس زعم میں کہ احمدیوں کے ہاتھ میں کشکول پکڑا دوں گا کیا نتیجہ نکلا ؟ احمدیت کو تو اللہ تعالیٰ نے پہلے سے بڑھ کر وسعت عطا کی۔دوسرے نے اور بھی سخت قانون بنایا کہ اب تو کوئی راہ فرار نہیں ہے۔لیکن اس سے بھی زیادہ تیزی سے احمدیت پھیلی بلکہ اللہ تعالیٰ نے پیغام پہنچانے کے وہ وسائل بھی مہیا فرما دیئے جو اگر انسانی منصوبہ بندی ہوتی تو شاید اس پر عمل کرنے کے لئے ہمیں مزید کئی سال درکار ہوتے۔اللہ تعالیٰ کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے جو وعدہ ہے کہ میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا یہ ہر روز نئی شان سے پورا ہوتا ہے۔اس لئے اس کی تو کوئی فکر نہیں کہ یہ احمدیت کو ختم کر سکیں گے یا احمدی کے ایمان کو متزلزل کر سکیں گے لیکن یہ فکر ضرور ہے اور اس کے لئے دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو ہر شر سے محفوظ رکھے۔انڈو نیشیا کے احمدی اور دنیا کے رہنے والے ہر جگہ کے احمدی بھی ہمیشہ یہ یا درکھیں کہ انہوں نے قانون کو کبھی اپنے ہاتھ میں نہیں لینا۔قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے حقوق حاصل کرنے کی کوشش کریں۔کسی مخالفت کی وجہ سے ہمدردی خلق سے ہاتھ نہیں اٹھانا۔کسی مخالفت کی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پیغام کو جوحقیقی اسلام کا پیغام ہے ، جو اللہ تعالیٰ کے احکامات اور اسوہ رسول ﷺ کی تعلیم ہے اس کو پھیلانے سے پیچھے نہیں ہٹنا۔پس یہ کام تو ہم نے کرنا ہے۔اس کے لئے قربانیاں بھی دینی پڑیں گی ، ابتلاء بھی آئیں گے۔الہی جماعتوں کے ساتھ ہمیشہ یہ سلوک ہوتا بھی رہا ہے۔لیکن انشاء اللہ تعالی، اللہ تعالیٰ کی مدد بھی آئے گی۔ہمیشہ آتی ہے اور پہلے سے بڑھ کر اپنی قدرت کے نظارے اللہ تعالیٰ دکھاتا ہے۔ہمارا کام پیغام پہنچانا اور ہمدردی بنی نوع ہے جو ہم نے کرنی ہے۔انڈونیشیا میں جب سونامی آیا تھا تو جس علاقے میں یہ سمندری طوفان تھا، اس میں اس سے پہلے بڑی شدید مخالفت تھی۔وہاں جا کر بھی ہم نے ان لوگوں کی ضرورتیں پوری کیں اور انہوں نے ہمارے سے مدد بھی حاصل کر لی۔تو ہمارے دل تو ضرورت مندوں کی ضرورت پوری کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمدردی بنی نوع انسان کے لئے ہمیشہ تیار ہیں اور اس ہمدردی سے پُر رہتے ہیں۔ہم نے خدمت کرنی ہے۔ان لوگوں نے ، جو ڈنگ مارنے والے ہیں ، ان کی فطرت میں ڈنگ مارنا ہے جس طرح گائے اور بچھو کا قصہ ہے۔ایک بچھونے گائے کو کہا کہ مجھے دریا پار کرا دو۔اس نے اپنی کمر پر اس کو سوار کر لیا۔دریا پار ہو کے جب وہ بچھوا تر نے لگا۔تو اس نے گائے کو ڈنگ مارلیا۔تو کسی نے کہا تمہیں بچھو کو دریا پار کرانے کی ضرورت کیا تھی۔اس نے کہا میری فطرت میں جو اللہ تعالیٰ نے کام رکھا ہے وہ میں کر رہی ہوں اور اس کی فطرت میں جو ڈنگ مارنا ہے وہ اس نے کرنا ہے۔تو ہم نے تو خدمت انسانیت کرنی ہے اور اگر کوئی مجبور ہے تو اس کی مدد کرنی ہے قطع نظر اس کے کہ ان لوگوں نے کیا سلوک کرنا ہے۔جزا اُن سے نہیں لینی بلکہ خدا تعالیٰ کے پاس ہمارے اجر ہیں اس لئے وہ تو ہم نے کرتے رہنا ہے۔جو اُن کا کام ہے وہ یہ کرتے