خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 470
خطبات مسر در جلد پنجم 470 خطبہ جمعہ 23 /نومبر 2007ء یہ جذبات اس وجہ سے احمدی کے دل میں پیدا ہوتے ہیں کہ اُس کی ایمانی حالت کو اس زمانے کے امام نے بدلا ہے۔خدا کا خوف اور خدا کی مخلوق سے ہمدردی اس کے دل میں پیدا کی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مختلف جگہ پر اپنی بعثت کی غرض بیان فرمائی ہے۔آپ یہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : میں اس لئے بھیجا گیا ہوں کہ تا ایمانوں کو قوی کروں اور خدا تعالیٰ کا وجود لوگوں پر ثابت کر کے دکھلاؤں کیونکہ ہر ایک قوم کی ایمانی حالتیں نہایت کمزور ہوگئی ہیں اور عالم آخرت صرف ایک افسانہ سمجھا جاتا ہے اور ہر ایک انسان اپنی عملی حالت سے بتا رہا ہے کہ وہ جیسا کہ یقین دنیا اور دنیا کی جاہ ومراتب پر رکھتا ہے اور جیسا کہ اُس کو بھروسہ دنیوی اسباب پر ہے، یہ یقین اور یہ بھروسہ ہر گز اس کو خدا تعالیٰ اور عالم آخرت پر نہیں۔زبانوں پر بہت کچھ ہے مگر دلوں میں دنیا کی محبت کا غلبہ ہے۔سوئیں بھیجا گیا ہوں کہ تا سچائی اور ایمان کا زمانہ پھر آوے اور دلوں میں تقویٰ پیدا ہو۔“ (كتاب البريه روحانی خزائن جلد 13 صفحه 291-293 حاشیه ) پھر آپ فرماتے ہیں۔وہ کام جس کے لئے خدا نے مجھے مامور فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ خدا میں اور اس کی مخلوق کے رشتہ میں جو کدورت واقع ہو گئی ہے اس کو دُور کر کے محبت اور اخلاص کے تعلق کو دوبارہ قائم کروں اور سچائی کے اظہار سے مذہبی جنگوں کا خاتمہ کر کے صلح کی بنیاد ڈالوں اور وہ دینی سچائیاں جو دنیا کی آنکھ سے مخفی ہوگئی ہیں ان کو ظاہر کر دوں۔(لیکچر لاهور روحانی خزائن جلد 20 صفحه 180 آپ فرماتے ہیں ” قرآن شریف کے بڑے حکم دو ہی ہیں، ایک تو حید و محبت و اطاعت باری عز اسمه دوسری ہمدردی اپنے بھائیوں اور اپنے بنی نوع کی۔ازاله اوهام روحانی خزائن جلد 3 صفحه (550 پس خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو اس زمانے کے امام کو ماننے والے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے زمانے کی اصلاح کے لئے اُس وقت بھیجا جب دنیا میں ہر طرف فساد اور خود غرضی کا دور دورہ تھا۔اس امام کو ماننے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں اُن برائیوں اور فسادوں سے بچنے کے راستے دکھا دیئے۔اب یہ ہر احمدی کا کام ہے کہ تو حید کو دنیا میں قائم کرنے کے لئے کوشش کرے۔خدا سے ذاتی تعلق پیدا کرے۔مخلوق کی ہمدردی میں ہر وقت کوشاں رہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ گزشتہ سو سال سے زائد عرصہ سے ہمدردی کے جذبہ کے تحت ان فرائض کی ادائیگی کے لئے حتی المقدور کوشش کرتی ہے۔اور اس وجہ سے ہی کہ ہمارے دلوں میں ہمدردی ہے، ہمیں ان لوگوں کو ان آفات کی اور ان فسادات کی وجوہات بھی بتانی چاہئیں۔دنیا کے ہر شخص تک یہ پیغام پہنچانا چاہئے کہ اس کی وجہ کیا ہے؟ اپنے اپنے حلقہ احباب میں بھی ، اخباروں کو خطوط لکھ کر یا دوسرے ذرائع استعمال کر کے دنیا کو اب