خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 469
خطبات مسرور جلد پنجم 469 (47) خطبہ جمعہ 23 /نومبر 2007ء فرمودہ مورخہ 23 نومبر 2007ء بمطابق 23 رنبوت 1386 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح لندن (برطانیہ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا آج دنیا میں ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہر طرف ایک افرا تفری کا عالم ہے۔چاہے وہ مشرقی ممالک ہوں یا مغربی ، ترقی یافتہ کہلانے والے ممالک ہوں یا ترقی پذیر بانسبتی لحاظ سے غیر ترقی یافتہ بعض ملک یا ملکوں کے رہنے والے اپنے ملکوں کے اندر فسادوں کی وجہ سے پریشان ہیں اور خوف کا شکار ہیں۔بعض دوسرے ممالک اور حکومتوں کی دخل اندازیوں کی وجہ سے خوف کا شکار ہیں۔بعض دہشت گردوں کی کارروائیوں کی وجہ سے پریشان ہیں اور خوف کا شکار ہیں۔یہ دہشت گردی سیاسی وجوہات کی وجہ سے ہو یا نام نہاد مذہب کی وجہ سے۔نام نہاد میں اس لئے کہتا ہوں کہ مذہب کے نام پر یا مذہب کی طرف منسوب کر کے جو دہشت گردی ہوتی ہے اور اس منسوب کرنے والوں میں جیسا کہ میں نے کہا کچھ تو مذہب کے نام پر کرنے والے ہیں اور کچھ خود ساختہ تصور پیدا کر کے اور خاص طور پر اسلام کے خلاف تصور پیدا کر کے پھر اس کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں۔بہر حال مذہب کبھی بھی دہشت گردی کی تعلیم نہیں دیتا اور خاص طور پر اسلام کی تعلیم تو کلیتا اس حرکت کے خلاف ہے اور پھر کسی حکومت میں رہ کر اس کا شہری ہو کر پھر اس قسم کی حرکتیں کرنا تو کسی بھی صورت میں اسلام میں قابل قبول نہیں ہے۔لیکن بدقسمتی ہے کہ انسانیت اور خدا کی مخلوق پر بعض طبقات کی طرف سے ظلم خدا کے نام پر ہوتا ہے۔پھر بعض ممالک جنگ کے خوف کی وجہ سے پریشان ہیں۔بعض کو قدرتی آفات نے گھیرا ہوا ہے اور ان ملکوں میں بسنے والے پریشانی اور خوف کا شکار ہیں۔غرض کہ آج ہر ہمدرد انسانیت اور خدا کا خوف رکھنے والا دل اس امر کی طرف متوجہ ہے اور غور کرتا ہے کہ کیا وجہ ہے کہ مکمل طور پر کہیں بھی کسی کو اطمینان قلب اور امن نصیب نہیں ہے اور اس درد کے ساتھ فی زمانہ صرف احمدی سوچتا ہے۔مجھے ڈاک میں اکثر خطوط ملتے ہیں کہ دنیا کے امن کے لئے ، ملک کے امن کے لئے دعا کریں۔یہ خطوط لکھنے والے گو کہ چند ایک ہوں گے لیکن مجھے علم ہے، کئی ذریعوں سے علم ہوتا رہتا ہے کہ اکثریت احمدیوں کی دنیا کے یا اپنے اپنے ملکوں کے حالات کی وجہ سے پریشان ہے کہ کس قسم کے پریشان کن حالات ملکوں میں، دنیا میں پیدا ہوئے ہوئے ہیں۔اور یہ جو سوچ ہے یہ اس انقلاب کا نتیجہ ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے ماننے والوں کے دلوں میں پیدا کیا۔