خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 451 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 451

خطبات مسرور جلد پنجم 451 خطبہ جمعہ 09 / نومبر 2007ء اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے سوا کبھی خرچ نہیں کرتے اور جو بھی تم مال میں سے خرچ کرتے ہو وہ تمہیں بھر پور واپس کر دیا جائے گا اور ہر گز تم سے کوئی زیادتی نہیں کی جائے گی ہم پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے جب بھر پور کا لفظ استعمال ہو تو وہ ایسا بھر پور ہے جس کا انسانی سوچ احاطہ بھی نہیں کر سکتی۔ایک انسان اپنا کاروبار کرتا ہے تو کاغذ پنسل لے کرضر میں تقسیمیں دے کر، آج کل کمپیوٹ کا زمانہ ہے تو کمپیوٹر پر بیٹھ کر بڑی پلانگ کر کے، بڑی فیر پیٹیاں (Feasibilities) بناتا ہے۔پانچ فیصد، دس فیصد تک منافع نکالنے کی کوشش کرتا ہے، یا کوئی بہت ہی منافع کمانے والا ہے تو اس سے بھی بڑھ جائے گا اور پھر اس سے بھی بڑھ کر بعض حالات میں جب کسی چیز کی طلب بڑھ جاتی ہے تو کوئی بلیک مارکیٹ کرنے والا ہو تو وہ بہت ہی زیادہ سو فیصد منافع رکھ لیتا ہے۔یہ اس کی حد ہوتی ہے اور پھر جب اس نے یہ کچھ کر لیا تو اس نے دنیاوی فائدہ تو اٹھا لیا لیکن غلط منافع اور ذخیرہ اندوزی سے گناہگار بھی ہوا اور اس ذریعہ سے کمایا ہوا پیسہ پھر پاک پیسہ کہلانے والا نہیں ہوتا۔لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لئے ، اس وجہ سے کہ اللہ کی محبت اور اس کے احکامات کی تکمیل مال کی محبت پر حاوی ہے جو تم خرچ کرتے ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو بھر پور طور پر واپس لوٹاتا ہے۔ایسا خرچ بھر پور طور پر واپس لوٹا یا جاتا ہے جس کی کوئی حد نہیں ہے۔دنیا بھی سنور جاتی ہے اور دین بھی سنور جاتا ہے۔مال بھی پاک ہوتا ہے اور ایسا پاک مال کمانے والے پھر لوگوں کی مجبوری سے فائدے اٹھانے والے نہیں ہوتے بلکہ ہمیشہ غلط طریق پر مال کمانے سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت میں امیر لوگ بھی ہیں ، اوسط درجہ کے بھی ہیں ، غریب بھی ہیں اور کیونکہ یہ مومنین کی جماعت ہے اس لئے ہر طبقہ اس فکر میں ہوتا ہے کہ میں جو بھی اللہ تعالیٰ نے مجھے مال دیا ہے اس میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کروں تا کہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور انعامات کا وارث بنوں۔ایسے لوگ بھی جماعت میں گزرے ہیں، نہ صرف گزرے ہیں بلکہ اب بھی ہیں جو اپنی روزمرہ ضروریات کے لئے وظیفہ پر گزارہ کرتے ہیں لیکن جب خلیفہ وقت کی طرف سے مالی قربانی کی تحریک ہو تو اس وظیفہ کی رقم میں سے بھی پس انداز کر کے ایک شوق اور جذبے کے ساتھ چندہ دینے کے لئے حاضر ہو جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے اپنے پر نظارے دیکھتے ہیں، اللہ تعالیٰ کا فضل حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اس کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے دنیا کے کئی ممالک میں ہزاروں احمدی ہیں جو اس اصل کو سمجھتے ہیں۔اللہ تعالیٰ سے کاروبار کرتے ہیں اور پھر اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کر کے بھر پور طور پر لوٹائے جانے کے نظارے دیکھتے ہیں۔ایک صاحب نے لکھا کہ میں نے اپنا تحریک جدید کا وعدہ کئی گنا بڑھا دیا تھا۔میں ذاتی طور پر انہیں جانتا ہوں، توفیق سے بڑھ کر انہوں نے وعدہ کیا تھا اور پھر اللہ تعالیٰ نے ایسا فضل فرمایا کہ جو بھی وعدہ انہوں نے کیا تھا اللہ تعالیٰ