خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 450
450 خطبہ جمعہ 09 / نومبر 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم کا اظہار ہو اور پھر اللہ تعالیٰ اس مال میں برکت ڈالے اور اسے بڑھاتا رہے۔پس ایک مومن اپنے ضرورت مند بھائیوں کی ضرورت کے لئے ، دینی ضروریات کے لئے ، غلبہ اسلام کے لئے جو مال خرچ کرتا ہے وہ دراصل اللہ تعالیٰ سے یہ سودا کر رہا ہوتا ہے کہ اس ذریعہ سے وہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو مزید جذب کرنے والا بنے۔اس وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کے مال کو مزید بڑھائے تاکہ دنیا کی نعمتوں سے بھی فائدہ اٹھائے اور پھر مزید خرچ کر کے اور زیادہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والا بنے۔یہ ایک ایسا عمل ہے جس میں گھاٹے کا سودا ہی نہیں ہے۔ایک طرف سے ڈالتے جاؤ ، دوسری طرف سے کئی گنا بڑھا کر حاصل کرتے چلے جاؤ۔دنیاوی چیزوں میں ہم دیکھتے ہیں کہ جب مال خرچ کر کے کوئی چیز حاصل کرتے ہیں تو اس کی قدر اتنی ہی ہوتی ہے جتنی کہ اس کی قیمت ادا کی جاتی ہے۔عقلمند انسان ہر ایک چیز کی قدر دیکھ کر ہی اس کی قیمت ادا کرتا ہے اور اُس کی قدراتنی ہی ہوتی ہے جتنا کہ جیسا کہ میں نے کہا اس پر خرچ کیا گیا ہو۔اس سے استفادہ ایک حد تک کیا جا سکتا ہے اور پھر وقت کے ساتھ ساتھ اس چیز سے استفادہ اور اس کی قدر میں کمی ہونا شروع ہو جاتی ہے اور ایک وقت میں وہ چیز بالکل بے کار ہو جاتی ہے۔پھر ہم دنیا میں دیکھتے ہیں کہ کسی بھی صنعت میں پیداوار حاصل کرنے کے لئے جب خام مال کا استعمال کیا جاتا ہے تو اس خام مال کا کچھ حصہ ضائع ہو جاتا ہے اور 100 فیصد اس پر خرچ کئے گئے مال سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔گو کہ ان نقصانات کا اندازہ کرتے ہوئے جو اس طرح ضائع ہوتے ہیں ، ایک کارخانہ دار یا اس کو بنانے والا اس کی قیمت اتنی مقرر کر دیتا ہے کہ اس کا نقصان بھی پورا ہو جائے اور کچھ منافع بھی ہو جائے۔پھر اور بہت سے عوامل ہیں ، اگر وہ اثر ڈالیں تو بعض دفعہ منافع بھی نقصان میں چلا جاتا ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی راہ میں خرچ کرنے والوں کو ضمانت دی ہے که مال بڑھے گا۔ایک جگہ فرمایا کہ سات سو گنا بلکہ اللہ تعالیٰ اس سے بھی زیادہ بڑھا دے گا۔پس مومنین کو ایسی تجارت کی طرف توجہ دلائی کہ گو یہ پیسہ تم دنیاوی ذرائع استعمال کر کے حاصل کرتے ہو لیکن جب اللہ تعالیٰ کی راہ میں اس کے حکموں کے مطابق خرچ کرتے ہو تو پھر جہاں اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کر کے جماعت کی مضبوطی کا باعث بن رہے ہوتے ہو، جہاں اپنی عاقبت سنوار رہے ہوتے ہو ، وہاں اس بات سے بھی آزاد ہو جاتے ہو کہ بعض عوامل اثر انداز ہو کر تمہاری تجارتوں کو نقصان نہ پہنچائیں۔اس مضمون کو اللہ تعالیٰ نے ایک اور جگہ اس طرح بیان فرمایا ہے۔اللہ تعالیٰ سورۃ بقرہ کی آیت 273 میں فرماتا ہے کہ وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ خَيْرٍ فَلَا نُفُسِكُمْ۔وَمَا تُنْفِقُونَ إِلَّا ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ۔وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ خَيْرٍ يُوَقَ إِلَيْكُمْ وَأَنْتُمْ لَا تُظْلَمُونَ (البقرة : 273) کہ جو مال بھی تم خرچ کرو تو وہ تمہارے اپنے ہی فائدہ میں ہے جبکہ تم