خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 432 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 432

432 خطبہ جمعہ 26 اکتوبر 2007ء 66 خطبات مسرور جلد پنجم اس کا ظاہر ہے۔اسی حسن کے لحاظ سے قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ کا نام نور ہے، جیسا کہ فرمایا اللهُ نُورُ السَّمَواتِ وَالأَرْضِ (النور: 36) یعنی اللہ تعالیٰ زمین و آسمان کا نور ہے۔ہر ایک نو ر اسی کے نور کا پر تو ہے لیکن اس نور کو دیکھنے کے لئے تعصب کی عینکیں اتارنی ہوں گی۔لیکن جو شیطان کی پیروی پر تلے ہوئے ہوں وہ اپنے کئے کا خمیازہ بھگتے ہیں اور اللہ پھر انہیں نور کی بجائے اندھیروں کی طرف لے جاتا ہے۔پس اگر قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا حسن نظر نہیں آتا یا اللہ کی ہستی کی پہچان نہیں ہوتی تو یہ دیکھنے والے کا قصور ہے جو اپنے دل کے دروازے اور کھڑکیاں بند رکھتے ہیں۔اگر انہوں نے اللہ تعالیٰ کا حسن دیکھنا ہو، اس تصور کو دیکھنا ہو جو اسلام پیش کرتا ہے تو اپنے دل کے دروازوں اور کھڑکیوں کو کھولنا ہوگا۔پھر اللہ تعالیٰ کے احسان کی خوبیاں بیان کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ: ” احسان کی خوبیاں اللہ تعالیٰ میں بہت ہیں جن میں سے چار بطور اصل الاصول ہیں۔چار بنیادی چیزیں ہیں اور ان کی ترتیب طبیعی کے لحاظ سے پہلی خوبی وہ ہے جس کو سورۃ فاتحہ میں رب العالمین کے فقرہ میں بیان کیا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی ربوبیت یعنی پیدا کرنا اور کمال مطلوب تک پہنچانا یعنی جہاں تک کسی چیز کی کوئی طلب ہو سکتی ہے ، ضرورت کسی چیز کی ہوسکتی ہے، اس کو ضرورت کے مطابق وہاں تک، اس کی ضروریات کو پہنچانا۔اور اس میں ہر ایک کی مختلف چیزوں کی مختلف اجسام کی اپنی اپنی طلب اور ضرورت ہے اگر جانوروں میں سے لیں تو جانوروں کی ، جمادات کی ، پودوں کی ، درختوں کی تو جس چیز کی تمام چیزوں کو ضرورت ہو، اس کی انتہا تک پہنچنے کا انتظام کرنا یہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ تمام عالموں میں یہ جور بوبیت کی صفت ہے وہ جاری ہے جس میں عالم سماوی بھی ہیں اور عالم ارضی بھی ہیں، زمین و آسمان کے تمام عالم میں جو بھی جس چیز کی بھی ضرورت ہے، جس چیز کی بھی مخلوق کے لئے اور اس کی پرورش کے لئے ضرورت ہے وہ اللہ تعالیٰ مہیا فرماتا ہے۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ : "ربوبیت الہی اگرچہ ہر ایک موجود کی موجد اور ہر ایک ظہور پذیر چیز کی مربی ہے یعنی جو بھی چیز موجود ہے، اس نے ہی اس کو پیدا کیا ہے اور جو بھی چیز ظاہر ہوئی ہے یا ہورہی ہے اس کی پرورش کرنے والی بھی خدا تعالیٰ کی ذات ہے۔لیکن بحیثیت احسان کے سب سے زیادہ فائدہ اس کا انسان کو پہنچتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کی تمام مخلوقات سے انسان فائدہ اٹھاتا ہے۔اس لئے انسان کو یاد دلایا گیا ہے کہ تمہارا خدا رب العالمین ہے تا انسان کی امید زیادہ ہو اور یقین کرے کہ ہمارے فائدہ کے لئے خدا تعالیٰ کی قدرتیں وسیع ہیں اور طرح طرح کے عالم اسباب ظہور میں لاسکتا ہے“۔پھر فر مایا کہ دوسرے درجہ کا احسان رحمانیت ہے۔فرمایا کہ خدا تعالیٰ کا نام رحمن اس وجہ سے ہے کہ اس نے ہر ایک جاندار کو جن میں انسان بھی داخل ہے، اس کے مناسب حال صورت اور سیرت بخشی۔یعنی جس کی زندگی کسی