خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 418 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 418

418 خطبہ جمعہ 12 اکتوبر 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم حفاظت کرنی ہے۔اپنی نسلوں کے جمعوں کی بھی حفاظت کرنی ہے اور جو تمام مسلمانوں اور تمام قوموں کو دین واحد پر جمع کرنے کا کام ہمارے سپرد ہوا ہے اس کی بجا آوری بھی کرنی ہے۔اگر ہمارے جمعوں میں باقاعدگی نہیں ، اگر ہمارے جمعوں میں ایک خاص توجہ نہیں تو ہماری بیعت کا دعوی بھی بے فائدہ ہے۔ہمارا قول وفعل کا تضاد بھی قابل فکر ہے۔میں نے نسلوں کی تربیت کی بات کی ہے تو یہ بھی ذکر کر دوں کہ بعض بیویاں ، بعض عورتیں اپنے خاوندوں کے بارہ میں دعا کے لئے لکھتی ہیں کہ دعا کریں کہ انہیں نمازوں میں با قاعدگی کی طرف توجہ پیدا ہو جائے ، انہیں جمعوں میں با قاعدگی کی طرف توجہ پیدا ہو جائے۔اس بات سے خوشی بھی ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ایسی عابدات عطا کی ہوئی ہیں جن کو اپنی نمازوں کے ساتھ اپنے خاوندوں اور بچوں کی بھی فکر ہے۔لیکن اس بات سے خوشی کے ساتھ ایک فکر بھی گھیر لیتی ہے کہ اگر ان خاوندوں کی ، ان باپوں کی اصلاح نہ ہوئی جو دین کی طرف پوری توجہ نہیں دیتے تو ان کے بچے بھی ان کی دیکھا دیکھی وہی عمل نہ شروع کر دیں۔آج کے زمانے میں جیسا کہ میں نے بتایا کھیل کو د لہو و لعب کی قسمیں بھی بے انتہا ہیں، دین سے بے تو جہگی کہیں ان نئی نسلوں کو بھی لہو ولعب میں مبتلا نہ کر دے۔جماعت کے بچے اللہ نہ کرے، اللہ نہ کرے، دین سے اور خدا سے اتنے دور نہ چلے جائیں جہاں سے واپسی مشکل ہو جائے۔پس اس زمانے میں ایک احمدی کی ذمہ داریاں بہت بڑھی ہوئی ہیں۔ایک امانت جو ہمارے سپرد ہے ، ایک عہد جو ہم نے کیا ہے اس کا حق ادا کرنا ہے اور یہ حق دعا اور اللہ تعالیٰ کے فضل کے بغیر ادا نہیں ہوسکتا اور اللہ تعالیٰ نے ہم پر احسان کرتے ہوئے جمعے میں وہ گھڑی رکھی ہے جس میں وہ اپنے سے مانگی ہوئی ہر خیر کی دعا قبول فرماتا ہے۔اور اس سے بڑی خیر کی دعا کیا ہوگی کہ ہم اللہ سے اپنی نسلوں کے اس سے مضبوط تعلق کی دعا مانگیں تا کہ وہ دین جو اللہ تعالیٰ کا آخری دین ہے اس پر قائم رہنے ، اس پر اپنی نسلوں کو قائم رکھنے اور اس کے پھیلانے میں ہمارا بھی کردار ہو اور ہم حقیقت میں جمعہ کا حق ادا کرنے والے ہوں۔ہم حقیقت میں اُس مقصد کو پورا کرنے والے ہوں جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مبعوث فرمایا تھا۔اور آپ نے آخرین میں بھی ایک جماعت پیدا کر دی جو پہلوں سے ملے اور وہ مقام حاصل کیا اور انقلاب پیدا کرنے کی کوشش کی جو پہلوں نے کیا تھا۔انہوں نے اپنی عبادتوں کے معیار بھی حاصل کئے ، اپنے تعلق باللہ کے بھی مقام حاصل کئے۔ہم میں سے بہت ہیں جن کو اس بات پر فخر ہے کہ ہم ان صحابہ کی اولادیں ہیں جن کو پہلوں سے ملنے کا مقام ملا۔یہ فخر کسی کام نہیں آئے گا اگر ہم نے اپنے اعمال میں بھی ان بزرگوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے پاک تبدیلیاں پیدا نہ کیں۔پس فکر کا مقام ہے اور بہت فکر کا مقام ہے۔اس طرف بہت توجہ کی ضرورت ہے۔آنحضرت ﷺ کے جھنڈے تلے آنے کا انقلاب تو اب آتا ہے۔تمام دنیا نے آپ کے جھنڈے تلے آنا ہے،