خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 399 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 399

خطبات مسرور جلد پنجم 399 خطبہ جمعہ 28 /ستمبر 2007 ء کے روزے مقرر کر کے ہمیں اللہ تعالیٰ یہ توجہ دلاتا ہے کہ یہ مہینہ جس میں قرآن اترا اور یہ احکامات جن کے بارے میں قرآن کریم کی تعلیم ہے اس رمضان میں روحانی ترقی کے لئے روزے رکھتے ہوئے ، روحانی ترقی میں ایک تپش پیدا کرتے ہوئے اس طرف خاص توجہ دو اور ہدایت پانے والوں میں شامل ہو جاؤ۔ان ہدایت یافتہ لوگوں میں جن کے معیار ہمیشہ اونچے سے اونچے ہوتے جاتے ہیں۔ان اعمال کے بجالانے میں ایک ذوق پیدا کر وجو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیان فرمائے ہیں۔تبھی رمضان تمہیں فائدہ دے گا اور تبھی تم لبیک کہنے والے ہو گے۔تبھی تم ایمان میں ترقی کرو گے یا کرنے والے کہلاؤ گے۔تبھی تم ہدایت یافتہ کہلاؤ گے اور تم اللہ تعالیٰ کے پیار کی آواز ”میرے بندے کا صحیح لقب پانے والے ہو گے تبھی اللہ تعالیٰ کے قرب کے نشان دیکھو گے تبھی اُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَان کے نظارے دیکھو گے اور تبھی اللہ تعالیٰ کی جنتوں میں داخل ہونے والے بن سکو گے۔پس اس آیت میں اس بات کی وضاحت کر دی کہ کیوں تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں اور کیوں رمضان سے قرآن کی خاص نسبت ہے۔اس لئے کہ تپش کا ایک خاص ماحول میسر آ کر روزے کے ساتھ قرآن پر غور کر کے، حقوق اللہ اور حقوق العباد پر غور کر کے معیاروں کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کا زیادہ سے زیادہ موقع ملے اور سال کے دوران جو کوتاہیاں اور ستیاں ہو گئی ہیں ان کا مداوا ہو سکے۔اللہ تعالیٰ ہمیں وہ معیار حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے جو اللہ تعالیٰ کے خالص بندے سے خدا تعالیٰ نے توقع کی ہے۔ہم اپنی روحانی تپش کے وہ معیار حاصل کریں جن سے ہماری دعائیں عرش تک پہنچ کر اجابت کا درجہ حاصل کرنے والی ہوں اور ہم اسلام اور احمدیت کا جھنڈا تمام دنیا پر ہرا تا ہوا دیکھیں۔خطبہ ثانیہ کے درمیان فرمایا۔ایک افسوسناک خبر ہے کہ گزشتہ دنوں کراچی میں ہمارے دو ڈاکٹر صاحبان شہید کر دیئے گئے۔ان دنوں رمضان میں بھی یہ احمدیوں کو شہید کر کے سمجھتے ہیں کہ بڑا ثواب کمارہے ہیں۔پہلے تو ڈاکٹر حمید اللہ صاحب ہیں۔یہ حضرت خلیفہ المسیح الثالث کے وقت میں جب وقف منظور ہوا تھا تو ان کو بورڈاکٹر گیمبیا بھجوایا گیا تھا۔پھر یہ سیرالیون نائیجیریا، گھانا، لائبیریا مختلف جگہوں پر رہے اور بڑی خدمات انجام دیتے رہے۔شروع میں ڈاکٹروں کے حالات بڑے سخت تھے۔بڑی قربانی سے انہوں نے وہاں اپنا وقت گزارا۔پھر 1990ء میں حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ کی اجازت سے واپس کراچی آگئے تھے انہوں نے وہاں کلینک کھولا۔وہاں بھی آپ حلقہ کے صدر رہے۔سیکرٹری اصلاح وارشاد بھی رہے۔اچھے پُر جوش داعی الی اللہ تھے۔مریضوں کو بھی تبلیغ کیا کرتے تھے۔ان کے ذریعہ سے کئی بیعتیں ہوئی ہیں اور اسی وجہ سے مخالفین کی آپ پر نظر تھی اور بعض دفعہ کافی دھمکیاں وغیرہ بھی ملتی رہیں۔