خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 398 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 398

خطبات مسرور جلد پنجم 398 خطبہ جمعہ 28 /ستمبر 2007 ء رمضان جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ رمض سے نکلا ہے اور رمض سورج کی تپش کو کہتے ہیں اور رمضان میں دو تپشیں ہیں۔ایک کھانا پینا اور جسمانی لذتوں کو چھوڑنا اور دوسرے اللہ تعالیٰ کے احکام کے لئے ایک جوش پیدا ہونا۔ملفوظات جلد 1 صفحه 136 جدید ایڈیشن مطبوعه ربوه پس جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ فَلْيَسْتَجِيبُوالی کہ میری آواز پر لبیک کہو۔ہم اس تپش پر جو رمضان نے ہمارے اندر پیدا کر دی ہے۔زیادہ سے زیادہ ان روزوں اور ان عبادتوں سے فیض اٹھانے کی کوشش کرتے ہوئے عمل کریں اور اللہ تعالیٰ کے اس حکم پر پہلے سے بڑھ کر عمل کرنے والے بنیں کہ اپنے مقصد پیدائش کو سمجھتے ہوئے میری عبادت کی طرف توجہ دو۔پھر حقوق العباد کی ادائیگی کی طرف توجہ دو۔حقوق العباد کی ادائیگی بھی اللہ تعالیٰ کے حکموں میں سے ایک حکم ہے۔بلکہ جو بندوں کے حقوق کی ادائیگی کی طرف توجہ نہیں کرتا وہ اللہ تعالیٰ کے حقوق بھی ادا نہیں کرتا۔پس اللہ تعالیٰ کے اس حکم پر عمل کرنے کے لئے کہ میرے بندے میری آواز پر لبیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں۔ہر دو قسم کے حقوق کی ادائیگی ضروری ہے جیسا کہ میں پہلے بتا کر آیا ہوں۔تبھی ہم حقیقی ہدایت یافتہ کہلانے والے ہوں گے تبھی خدا تعالیٰ ہماری باتوں کا جواب دے گا۔پس یہ جو کہا جاتا ہے کہ قرآن رمضان کے بارہ میں اترا اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم کے احکامات اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف توجہ دلانے والے اور حقوق العباد کی طرف توجہ دلانے والے ہیں۔رمضان میں ایک مومن اس طرف خاص طور پر توجہ پیدا کرے۔ان ہر دو حقوق کی ادائیگی کے لئے ایک جوش پیدا کرے۔حقوق العباد کی ادائیگی کی طرف بھی توجہ دلاتے ہوئے آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو شخص روزے دار کا روزہ افطار کروائے اس کے گناہ معاف کر دئے جاتے ہیں اور اس کی گردن آگ سے آزاد کر دی جاتی ہے۔اور رمضان کے دنوں میں خود آنحضرت ﷺ کا اپنا عمل بھی کیا تھا۔روایت میں آتا ہے کہ رمضان میں صدقہ خیرات اور دوسروں کی مدد میں اپنا ہاتھ اتنا کھلا کر لیتے تھے کہ جس طرح ایک تیز ہوا چل رہی ہوتی ہے اسی طرح آپ خرچ کر رہے ہوتے۔(بخارى كتاب الصوم۔باب اجود ما كان النبي عل الله يكون في رمضان) یہ اس لئے تھا کہ حقوق اللہ کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کی ادائیگی کا حکم بھی ہے، اس پر بھی رمضان میں پہلے سے بڑھ کر عمل ہو۔پس ہر مومن کا بھی فرض ہے کہ ایمان میں ترقی کے لئے اور قرآن کریم کے احکامات پر عمل کرنے کے لئے خاص طور پر اس مہینے میں توجہ دے۔یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے جیسا کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ ہر سال رمضان