خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 337 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 337

337 خطبات مسرور جلد پنجم خطبہ جمعہ 17 اگست 2007 ء خلاصہ ( جیسا کہ گزشتہ خطبہ میں میں نے بیان کیا تھا) خدا کی توحید کا قیام ، آنحضرت ﷺ کی مکمل پیروی ، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو تمام فیصلوں پر حکم اور عدل ماننا ہے، مخلوق کے حقوق ادا کرنا ، خلافتِ احمدیہ کی اطاعت کرنا تو پھر یہ ایمان کا درخت مضبوط تنے پر قائم ہو جائے گا اس کی جڑیں مضبوط ہوں گی اور جب یہ صورت پیدا ہوگی تو پھر ایک مومن کا فعل خدا کی رضا کے حصول کے لئے ہوگا۔اللہ تعالیٰ اس کو ہمیشہ شیطان سے بچانے اور اندھیروں سے روشنی کی طرف نکالنے کے سامان پیدا فرماتا رہے گا۔کیونکہ یہ تو ہو نہیں سکتا کہ ایک دنیا وی دوست اپنے دوست کے لئے کوشش کر کے اس کے فائدے کے سامان کرے اور خدا تعالیٰ جو سب دوستوں سے زیادہ وفا کرنے والا ہے وہ اپنے دوست کو ، ایک مومن کو ، با وجود اس کے چاہنے کے ( کہ خدا تعالیٰ اسے ایمان میں مضبوط رکھے اور شیطان سے اسے بچا کر رکھے، اس کے حملوں سے محفوظ رکھے ) یوں اندھیروں میں بھٹکتا ہوا چھوڑ دے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ کبھی بھی نہیں ہو گا۔اگر تم میری طرف بڑھ رہے ہو اور ایمان کی مضبوطی کی کوششیں کر رہے ہو تو میرا قرب حاصل کرنے والے ہو گے۔ایک جگہ فرماتا ہے کہ اللهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمتِ إِلَى النُّورِ (البقرة: 258) كه اللہ ان لوگوں کا دوست ہے جو ایمان لائے وہ ان کو اندھیروں سے روشنی کی طرف نکالتا ہے۔پس یہ جو اللہ تعالیٰ مومنوں سے دوستی کا اعلان فرما رہا ہے اور فرماتا ہے کہ مومنوں کو اندھیروں سے روشنی کی طرف لائے گا ، ان کو ایک نور دکھائے گا تو یہ اعلان ہے کہ تمہاری کوشش تمہارے ایمان کی مضبوطی کی کوشش تمہیں یقینا ترقیات نصیب کرے گی۔تمہیں روحانی ترقی میں بڑھائے گی ، پھر اس کی وجہ سے تمہاری جسمانی ضروریات بھی پوری فرمائے گا۔پس ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں نیک نیت سے کوشش ضروری ہے۔دنیا کی طرف دوڑنے والوں کو تو پتہ نہیں دنیا ان کی خواہش کے مطابق ملتی بھی ہے کہ نہیں۔کیونکہ بہت سے جو دنیا کمانے والے ہیں اور خدا کو بھولنے والے ہیں ان میں سے اکثریت کیا بلکہ سارے ہی بے چینی کی زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔لیکن خدا کی خاطر خالص ہو کر اپنے ایمانوں میں مضبوطی پیدا کرنے والوں کو خدا بھی ملتا ہے اور دنیا بھی ان کے در کی لونڈی ہو جاتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ جو شخص خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کرے گا تو خدا تعالیٰ بھی اس کی طرف رجوع کرے گا۔ہاں یہ ضروری ہے کہ جہاں تک بس چل سکے وہ اپنی طرف سے کوتاہی نہ کرے۔پھر جب اس کی کوشش اس کے اپنے انتہائی نقطہ تک پہنچے گی تو وہ خدا تعالیٰ کے نور کو دیکھ لے گا۔یہ جو آپ نے فرمایا کہ اس کی کوشش اس کے اپنے انتہائی نقطے تک پہنچے گی۔تو یہ بھی اللہ تعالیٰ کا اپنے بندے پر خاص احسان ہے کہ ہر انسان کی صلاحیتیں مختلف ہوتی ہیں، اس کی استعدادیں مختلف ہوتی ہیں، اس کی اپنی استعدادوں کی انتہا کے مطابق اس کا ٹارگٹ مقررفرماتا ہے۔پس ایمان کی مضبوطی اور اللہ کے نور سے حصہ لینے کے لئے اپنی استعدادوں کے انتہائی نقطے تک پہنچنے کی کوشش کرنی چاہئے۔