خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 336 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 336

خطبات مسرور جلد پنجم 336 خطبہ جمعہ 17 راگست 2007 ء آپ نے یہ فرمایا ہے کہ تقویٰ کی باریک راہیں روحانی خوبصورتی کے لطیف نقوش اور خوشنما خط و خال ہیں۔اس کی وضاحت کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ ایمان کے لئے خشوع کی حالت مثل بیج کے ہے یعنی اللہ کا خوف ہر عمل سے پہلے اس کی موجودگی کا احساس دلائے۔یہ پیج تمہارے دل میں پیدا ہونا چاہئے اور کسی کام کو سرانجام دینے سے پہلے یہ احساس اور یقین رکھنا کہ اللہ تعالیٰ ہر جگہ موجود ہے، یہ احساس ہر وقت دل میں موجود رہے۔انتہائی عاجزی سے اور ڈرتے ڈرتے اپنی زندگی گزارنا۔یہ حالت ایسی ہے کہ جس کی مثال بیج سے دی جاسکتی ہے اور پھر جب یہ خشوع پیدا ہو جائے اور تمام لغو باتوں کو انسان ترک کر دے تو پھر انسان کے دل کی زمین جو ہے اس پر ایمان کا نرم نرم سبزہ نکلتا ہے ، وہ بیج پھوتا ہے، اس کھیت میں ہریالی نظر آنے لگتی ہے۔اور یہ نرم سبزہ ایسا ہوتا ہے کہ بہت نازک ہوتا ہے۔ایک بچے کے پاؤں کے نیچے بھی آجائے تو کچلا جاتا ہے۔پس اس بات پر راضی نہیں ہو جانا چاہئے کہ میرے اندر بہت خشوع پیدا ہو گیا ہے۔میں نے اس وجہ سے لغویات کو بھی ترک کر دیا ہے یا اس کے ترک کرنے کی طرف کافی ترقی کرلی ہے بلکہ اس نرم پودے کی حفاظت کے لئے بہت سے مراحل ابھی باقی ہیں۔آپ وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ایمان کی مضبوطی کے لئے پھر اپنے محبوب مال میں سے قربانیاں کرنی پڑتی ہیں۔اس کی ضرورت ہے۔جب یہ مالی قربانی ہو تو پھر ایمانی درخت کی ٹہنیاں نکل آتی ہیں۔اس کی شاخیں پھوٹ پڑتی ہیں جو اس میں کسی قدر مضبوطی پیدا کرتی ہیں۔پھر ان ٹہنیوں کو مزید مضبوط کرنے کے لئے شہوات نفسانیہ کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔قدم قدم پر شیطان نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔جو مختلف طریقوں سے نفس کو بھڑکا کر بُرائیوں کی طرف مائل کرتا ہے اور نیکیوں سے روکنے کی کوشش کر رہا ہے ہر جگہ اس سے بچنا ہر مومن کا کام ہے۔بُرائیوں سے بچنا اور نیکیوں کو اختیار کرنا ، شیطان کے دھوکے میں نہ آنا اور جب یہ صورت پیدا ہو گی تو فرمایا پھر ان ٹہنیوں میں خوب مضبوطی اور سختی پیدا ہو جاتی ہے اور پھر اس پودے کو جو ٹہنیوں کی حد تک مضبوط ہو گیا، لیکن ابھی مضبوط تنے پر کھڑا ہونا باقی ہے، اس کو مضبوط تنے پر کھڑا کرنے کے لئے اپنے وہ تمام عہد جو تم نے خدا سے اور خدا کی خاطر اس کے احکامات پر عمل کرنے کے لئے کئے ہیں ان کی حفاظت کرو، اپنی تمام امانتوں کی حفاظت کرو۔اللہ تعالیٰ کے تمام احکامات امانتیں ہیں ان کی حفاظت کرنا ، ان کو موقع محل کے مطابق بجالا نا ضروری ہے اور یہ امانتیں ایمان کی شاخیں ہیں۔پس یہ تمام چیزیں پھر ایمان کے درخت کو مضبوط تنے پر کھڑا کر دیتی ہیں اور تنا ان کو خوراک مہیا کرتا ہے۔ایمانی عہدوں کی مزید وضاحت کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ ایمانی عہدوں سے مراد وہ عہد ہیں جن کا انسان بیعت کرتے وقت اور ایمان لاتے وقت اقرار کرتا ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے جن شرائط پر ہم نے بیعت کی ہے وہ ہمیشہ ہمیں پیش نظر رکھنی چاہئیں اور جب اس عہد کی حفاظت کر رہے ہوں گے۔اس کا