خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 328
328 خطبه جمعه 10 / اگست 2007 ء خطبات مسرور جلد پنجم سانپ ہیں۔سو تم اس کی جناب میں قبول نہیں ہو سکتے جب تک ظاہر و باطن ایک نہ ہو۔بڑے ہو کر چھوٹوں پر رحم کرو، نہ ان کی تحقیر۔عالم ہو کر نادانوں کو نصیحت کرو نہ خود نمائی سے ان کی تذلیل۔امیر ہو کر غریبوں کی خدمت کرو، نہ خود پسندی سے ان پر تکبر۔ہلاکت کی راہوں سے ڈرو۔خدا سے ڈرتے رہو اور تقویٰ اختیار کرو۔کشتی نوح۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 11-12) یہ وہ چند باتیں ہیں، یہ وہ اعمال ہیں جن کے بجالانے کی طرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے توجہ دلائی ہے اور ان کو بجالانے والا نیک اور صالح کہلا سکتا ہے اور یہ وہ لوگ ہیں جن کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے سلسلے میں شمولیت کرنے والوں کے لئے شرط قرار دیا ہے۔اور اگر ہم اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ، اس بات پر ایمان رکھتے ہیں اور یہ یقین رکھتے ہیں کہ آخرین میں مبعوث ہونے والا آنحضرت ﷺ کا غلام صادق یہی ہے جس کی ہم نے بیعت کی ہے، جس کی جماعت میں ہم شامل ہیں ، جو تقوی کی طرف توجہ دلاتے ہوئے نیک اعمال کے کرنے کی ہم سے توقع کر رہا ہے تو پھر اپنے ایمان کی مضبوطی کے لئے بڑی سنجیدگی سے ہر احمدی کو ان باتوں کی طرف توجہ دینی ہوگی تاکہ ہم اللہ تعالیٰ کے انعامات کے وارث بنتے چلے جائیں۔اور پہلی بات جس کی طرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں توجہ دلائی ہے وہ ہے تو حید کو زمین پر پھیلانے کی کوشش۔خدا تعالیٰ پر ایمان صرف اسی بات کا نام نہیں کہ ہم نے اپنے منہ سے خدا تعالیٰ پر اپنے ایمان کا اعلان کر دیا یا کہہ دیا کہ ہمارے دلوں میں اللہ کا بڑا خوف ہے بلکہ اس کی عملی شکل دکھانی ہوگی اور وہ کیا ہے؟ تو حید کے قیام کی کوشش۔اور توحید کے قیام کی عملی کوشش اس وقت ہوگی جب ہم سب سے پہلے اپنے دلوں کو غیر اللہ سے پاک کریں گے۔دنیاوی خواہشات کے چھوٹے چھوٹے بتوں کو اپنے دلوں سے نکال کر باہر پھینکیں گے۔ذاتی منفعتیں حاصل کرنے کے لئے دنیاوی چالاکیوں اور جھوٹ کا سہارا نہیں لیں گے۔اپنے کاموں کو، اپنے کاروباروں کو، اپنی نمازوں پر ترجیح نہیں دیں گے۔اپنے بچوں کا خدا تعالیٰ سے تعلق جوڑنے کے لئے اپنے عمل سے اور اپنے قول سے ان کی تربیت کریں گے، ان کے لئے نمونہ بنیں گے۔اپنے ماحول میں خدا تعالیٰ کی توحید کا پر چار کریں گے۔پس جب یہ باتیں ہم اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ اور استعدادوں کے ساتھ کر رہے ہوں گے تو تب ہی تو حید کے قیام کی کوشش ہوگی اور تبھی ہم اپنے ایمانوں میں مضبوطی پیدا کر رہے ہوں گے۔پھر نیک اعمال کی طرف توجہ دلاتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ”بندوں پر رحم کرو۔کوئی مومن نہ صرف دوسرے مومن پر بلکہ کسی انسان پر زبان سے یا ہاتھ سے یا کسی بھی طریق سے ظلم نہ کرے۔آنحضرت ﷺ نے تو مومن کی نشانی یہ بتائی ہے کہ مومن وہ ہے ) جس سے تمام دوسرے انسان محفوظ رہیں۔پس مومن کی پہچان ہی رحم ہے۔ظلم کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہو سکتا۔جب یہ رحم ایک مومن کے دل میں دوسروں کے لئے ہر وقت موجزن ہو گا تبھی وہ رحمان خدا پر حقیقی ایمان لانے والے کہلا سکیں گے اور آپس کے تعلقات میں تو ایک مومن دوسرے مومن کے ساتھ اس طرح ہے جیسے ایک جسم کے اعضاء۔