خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 327 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 327

خطبات مسرور جلد پنجم 327 (32) خطبه جمعه 10 اگست 2007 ء فرموده مورخہ 10 راگست 2007ء(10 رظہور 1386 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح ،لندن (برطانیہ) تشہد، تعوذ وسورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے یہ آیت تلاوت فرمائی: وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّلِحَتِ أَنَّ لَهُمْ جَنَّتٍ تَجْرِى مِنْ تَحْتِهَا الْاِ نْهْرُ ۖ كَلَّمَا رُزِقْوْا مِنْهَا مِنْ ثَمَرَةٍ رِزْقًا قَالُوْا هَذَا الَّذِي رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ وَأتُوا بِهِ مُتَشَابِهَا وَلَهُمْ فِيهَا أَزْوَاجٌ مُطَهَّرَةً وَهُمْ فِيهَا خَلِدُوْنَ (البقرة: 26) جلسہ سالانہ کے خطبات سے پہلے میں اللہ تعالیٰ کی صفت مومن کے تحت یہ بیان کر رہا تھا کہ وہ کون لوگ ہیں جو اس سے حقیقی رنگ میں فیض پانے والے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے مطابق اس صفت المؤمن کے تحت ایک مومن کے کیا اوصاف ہونے چاہئیں جن کے بعد ایک بندہ حقیقی رنگ میں اللہ پر ایمان لاتے ہوئے اس کے انعامات کا حصہ دار بنے گا ، آج بھی میں اسی مضمون کو جاری رکھتا ہوں۔ایک مومن کی اللہ تعالیٰ نے یہ نشانی بتائی ہے کہ وہ اعمال صالحہ بجالانے والا ہوتا ہے، یعنی جب اللہ تعالیٰ پر ایمان ہوگا ، اس کے فرشتوں پر ایمان ہوگا، اس کی کتابوں پر ایمان ہوگا، اس کے رسولوں پر ایمان ہوگا ، یومِ آخرت پر ایمان ہوگا اور اللہ تعالیٰ کا نام جب ایک مومن کے سامنے لیا جائے گا تو اللہ تعالیٰ کی محبت اس کے دل میں موجزن ہو گی اور اس کا دل اس بات سے بھی خوفزدہ ہو گا کہ کہیں میں کوئی ایسی بات نہ کروں جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا موجب بنے۔تو لازماً پھر جب ایسی حالت ہوگی تو پھر اس کے دل میں یہ خیال ہر وقت غالب رہے گا کہ میں وہی اعمال بجالا ؤں جو اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ اعمال ہیں، جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہیں ، جن کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔پس ایک مومن کو ایسے صالح اعمال بجالانے چاہئیں جن میں اللہ تعالیٰ کے حقوق کے ساتھ بندوں کے حقوق کا بھی خیال رکھا جاتا ہو۔اگر یہ بات ایک انسان میں پیدا ہو جائے تو یہ اسے حقیقی مومن کی صف میں کھڑا کر دیتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ کامل الایمان کی تعریف کرتے ہوئے اور افراد جماعت کو توجہ دلاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : اس کی توحید زمین پر پھیلانے کے لئے اپنی تمام طاقت سے کوشش کرو اور اس کے بندوں پر رحم کرو اور ان پر زبان یا ہاتھ یا کسی ترکیب سے ظلم نہ کرو اور مخلوق کی بھلائی کے لئے کوشش کرتے رہو اور کسی پر تکبر نہ کرو، گو اپنا ماتحت ہو اور کسی کو گالی مت دو، گو وہ گالی دیتا ہو۔غریب اور حلیم اور نیک نیت اور مخلوق کے ہمدرد بن جاؤ تا قبول کئے جاؤ۔بہت ہیں جو حلم ظاہر کرتے ہیں مگر وہ اندر سے بھیڑیے ہیں۔بہت ہیں جو اوپر سے صاف ہیں مگر اندر سے