خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 22
خطبات مسرور جلد پنجم 22 خطبہ جمعہ 19 جنوری 2007 ء سے پہلے ڈالی گئی۔ہاں انسان کو خدا تعالیٰ کی رحمانیت سے سب سے زیادہ حصہ ہے کیونکہ ہر ایک چیز اس کی کامیابی کے لئے قربان ہو رہی ہے۔اس لئے انسان کو یاد دلایا گیا کہ تمہارا خدارحمن ہے۔“ ايام الصلح روحانی خزائن جلد 14 صفحه 24-248 | پس یہ اتنا بڑا احسان ہے کہ انسان جس کو اللہ تعالیٰ نے عقل اور شعور عطا فرمایا ہے، اشرف المخلوقات کہلاتا ہے اس کو اللہ تعالیٰ کی اس صفت رحمانیت کی وجہ سے اس کے آگے جھکے رہنے والا بنار ہنا چاہئے۔لیکن عملاً انسان اس کے بالکل الٹ چل رہا ہے۔انسانوں کی اکثریت اپنے خدا کی پہچان سے بھٹکی ہوئی ہے۔فیض اٹھاتے ہیں اور بھول جاتے ہیں۔اپنی رحمانیت کے صدقے اللہ تعالیٰ دنیا میں انبیاء بھیجتا ہے جولوگوں کو بشارت بھی دیتے ہیں، ڈراتے بھی ہیں۔اللہ تعالیٰ سے ہدایت پا کر نیک اعمال کی طرف رہنمائی بھی کرتے ہیں۔اس کی عبادت کے طریقے بھی بتاتے ہیں۔لیکن اکثریت اپنی اصلاح کی طرف مائل نہیں ہوتی۔اور پھر اس بات پر نبی اپنے دل میں تنگی محسوس کرتے ہیں کہ قوم کو یہ کیا ہو گیا ہے؟ اور سب سے زیادہ تنگی ہمارے سید و مولیٰ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ سلم نے محسوس کی۔جس پر اللہ تعالیٰ کو یہ کہنا پڑا که لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ (الشعراء: 4) یعنی شاید تو اپنی جان کو ہلاکت میں ڈال لے گا کہ یہ ایمان کیوں نہیں لاتے۔پس آپ گا یہ احساس آپ کے اس مقام کی وجہ سے تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو رحمۃ للعالمین بنا کے بھیجا تھا۔اور یہ آپ علیل اللہ کی فطرت کا خاصہ تھا۔بہر حال یہ رحمان خدا کا اپنے بندوں پر احسان ہے کہ وہ دنیاوی ضرورتیں بھی بن مانگے پوری کرتا ہے اور روحانی ضرورتیں بھی پوری کرتا ہے۔پھر اگر کوئی ان کی قدر نہ کرے، ان کو نہ پہنچانے ، ان سے فائدہ نہ اٹھائے تو ایسے لوگ پھر خود ہی اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے والے ہوتے ہیں۔نبی کی تعلیم اور نبی کا در دایسے لوگوں کے کسی کام نہیں آتا۔پس روحانی فیض اٹھانے کے لئے رحمن خدا کی طرف توجہ اور اس کا خوف ضروری ہے۔اسی لئے آپ علیم اللہ کی حالت دیکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ إِنَّمَا تُنْذِرُ مَنِ اتَّبَعَ الذِّكْرَ وَخَشِيَ الرَّحْمَنَ بِالْغَيْبِ فَبَشِّرُهُ بِمَغْفِرَةٍ وَأَجْرِ كَرِيمٍ (يس: 12) تو صرف اسے ڈرا سکتا ہے جو نصیحت کی پیروی کرتا ہے اور رحمن سے غیب میں ڈرتا ہے۔پس اسے ایک بڑی مغفرت کی اور معزز اجر کی خوشخبری دے دے۔پس اللہ تعالیٰ جو رحمان ہے، اپنے بندے پر انعام و احسان کے لئے ہر وقت تیار ہے۔اس نے اپنے انعامات کے ساتھ خوبصورت تعلیم اور نصیحت بھی لوگوں کے سامنے رکھ دی اور فرمایا کہ تمہارے اوپر زبردستی کوئی نہیں اگر ان احسانوں کو یاد کر کے جو میں تم پر کرتا ہوں میری نصیحت پر عمل کرتے ہو، غیب میں بھی میرے پہ ایمان کامل ہے تو ان احسانوں میں مزید اضافہ ہوگا۔تمہارے لئے دنیا و آخرت میں انعامات مزید بڑھیں گے، مزید خوشخبریاں ملیں گی جن کا تم تصور بھی نہیں کر سکتے تمہیں اللہ تعالیٰ کی مغفرت کی چادر ڈھانپے رکھے گی اور اس سے تم اللہ تعالیٰ کے مزید قریب ہونے والے بنو گے۔اس کے لئے کیا طریق اختیار کرنے ہیں۔یہ جو طریق ہیں، یہ اب آگے اللہ تعالیٰ کی صفت رحیمیت میں بیان