خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 21 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 21

خطبات مسرور جلد پنجم 21 3 خطبہ جمعہ 19 جنوری 2007ء فرمودہ مورخہ 19 جنوری 2007ء بمطابق 19 صلح 1386 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، لندن (برطانیہ) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے یہ تلاوت فرمائی: إِنَّمَا تُنذِرُ مَنِ اتَّبَعَ الذِكْرَ وَخَشِيَ الرَّحْمَنَ بِالْغَيْبِ فَبَشِّرُهُ بِمَغْفِرَةٍ وَأَجْرٍ كَرِيمٍ۔(يس:12) اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں مختلف جگہوں پر مختلف حوالوں سے اپنی صفت رحمانیت کی شان بیان فرمائی ہے۔جیسا کہ میں پہلے بھی ایک خطبہ میں بتا چکا ہوں کہ رحمن کا کیا مطلب ہے، کیونکہ اس کو چار پانچ ہفتے گزر گئے ہیں اس لئے مختصر دوبارہ بیان کر دیتا ہوں۔اللہ تعالیٰ کی صفت رحمن سے مراد ایسی رحمت، مہربانی اور عنایت ہے جو ہمیشہ احسان کے طور پر ظاہر ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ اپنی صفت کی وجہ سے بلا تمیز مذہب و قوم ہر انسان کو اپنے اس احسان سے فیض پہنچارہا ہے بلکہ ہر جاندار اس سے فیض حاصل کر رہا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ ” خدائے تعالیٰ آپ ہی ہر یک ذی روح کو اس کی ضروریات جن کا وہ حسب فطرت محتاج ہے عنایت فرماتا ہے اور بن مانگے اور بغیر کسی کوشش کے مہیا کر دیتا ہے۔“ براهین احمدیه روحانی خزائن جلد 1 صفحه 450 حاشیه نمبر (11) آپ نے مزید کھول کر فرمایا کہ جاندار کی ضروریات اس کی فطرت کے مطابق جو بھی ہیں ان کو مہیا فرماتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے اس احسان کی مزید وضاحت ہوگئی۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک اور جگہ فرماتے ہیں کہ دوسری خوبی خدا تعالیٰ کی جو دوسرے درجہ کا احسان ہے جس کو فیضان عام سے موسوم کر سکتے ہیں رحمانیت ہے جس کو سورہ فاتحہ میں الرحمن کے فقرہ میں بیان کیا گیا ہے اور قرآن شریف کی اصطلاح کی روح سے خدا تعالیٰ کا نام رحمن اس وجہ سے ہے کہ اس نے ہر ایک جاندار کو جن میں انسان بھی داخل ہے اس کے مناسب حال صورت اور سیرت بخشی۔یعنی جس طرز کی زندگی اس کے لئے ارادہ کی گئی اس زندگی کے مناسب حال جن قوتوں اور طاقتوں کی ضرورت تھی یا جس قسم کی بناوٹ ، جسم اور اعضاء کی حاجت تھی وہ سب اس کو عطا کئے اور پھر اس کی بقا کے لئے جن جن چیزوں کی ضرورت تھی وہ اس کے لئے مہیا کیں۔پرندوں کے لئے پرندوں کے مناسب حال اور چرندوں کے لئے چرندوں کے مناسب حال اور انسان کے لئے انسان کے مناسب حال طاقتیں عنایت کیں۔اور صرف یہی نہیں بلکہ ان چیزوں کے وجود سے ہزار ہا برس پہلے بوجہ اپنی صفت رحمانیت کے اجرام سماوی وارضی کو پیدا کیا تا وہ ان چیزوں کے وجود کی محافظ ہوں۔پس اس تحقیق۔ثابت ہوا کہ خدا تعالیٰ کی رحمانیت میں کسی کے عمل کا دخل نہیں بلکہ وہ رحمت محض ہے جس کی بنیاد ان چیزوں کے وجود