خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 289
289 خطبہ جمعہ 13 جولائی 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم رو رو کر اور استغفار کرتے ہوئے گزرا۔لگتا تھا کہ یہ غم اسے ہلاک کر دے گا، اگلے دن نماز کا وقت آیا ، اس کو آواز آئی کہ اٹھو اور نماز پڑھو۔اس نے پوچھا کون ہو تم؟ اس نے کہا میں شیطان ہوں۔پوچھا کہ شیطان کا کیا کام ہے نماز کے لئے جگانے کا؟ تو اس نے جواب دیا کہ کل تم نے جو روروکر اپنی حالت بنائی تھی اور جتنا استغفار کیا اس پر اللہ تعالیٰ نے تم کو کئی گنا نماز کا ثواب دے دیا۔میرا تو مقصد یہ تھا کہ تم ثواب سے محروم ہو جاؤ گے تو بجائے اس کے کہ تم کئی گنا ثواب لو اس سے بہتر ہے کہ میں تمہیں خود ہی جگادوں اور تم تھوڑا ثواب حاصل کرو، اتنا ہی جتنا نماز کا ملتا ہے۔نہیں تو پھر رو رو کے وہی حالت کرو گے اور پھر زیادہ ثواب لے جاؤ گے تو میرا مقصد تو پورا نہیں ہوگا۔تو یہ نمازیں چھوڑنے والوں کا درد ہوتا ہے۔پھر ایک مومن کی نمازوں کی شان نماز پڑھتے ہوئے پوری توجہ کے ساتھ پڑھنا ہے۔ایک مومن کو باجماعت نماز پڑھنے کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔قیام نماز اس وقت مکمل ہو گا جب باجماعت نماز کی طرف توجہ ہوگی۔اس لئے حتی الوسع با جماعت نماز کی کوشش کرنی چاہئے۔اس لئے حدیث میں آیا ہے کہ باجماعت نماز کا ثواب ستائیس گنا تک ہے۔(مسلم کتاب الصلوة باب فضل صلوة الجماعة حديث نمبر (1362) پھر ایک مومن کی ایک یہ شان ہے کہ نہ صرف خود نمازوں کا اہتمام کرے بلکہ دوسروں کو بھی تلقین کرتا رہے۔جماعتی نظام بھی ایک خاندان کی طرح ہے۔اس میں ہر ایک کو اپنے ساتھ اپنے بھائی کی بھی فکر کرنی چاہئے۔جو چیز اپنے لئے پسند کرتا ہے ، اپنے عزیزوں کے لئے بھی پسند کرنی چاہئے۔یہ ثواب کمانے اور نیکی پھیلانے کا ذریعہ ہے۔لیکن پیار سے توجہ دلانی چاہئے۔جس کو توجہ دلائی جارہی ہو اس کو بھی برا نہیں منانا چاہئے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَأَمْرُ أَهْلَكَ بِالصَّلٰوةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا (سورة طه : 133) اور تُو اپنے اہل کو نماز کی تلقین کرتارہ اور خود بھی نماز پر قائم رہ۔پس جہاں ماں باپ، بہن بھائیوں کو ایک دوسرے کو نماز کی تلقین کرنی چاہئے وہاں پر ہر احمدی کو دوسرے احمدی کو بھی پیار سے اور نظام جماعت جو اس کام پر مامور ہے ان کو بھی دوسروں کو نمازوں کی طرف توجہ دلاتے رہنا چاہئے۔یہی چیز ہے جو مومنین کی جماعت کو مضبوطی عطا کرتی ہے۔یہی چیز ہے جس سے بندے اور خدا کے درمیان ایک تعلق قائم ہوتا ہے جو بندے کو خدا کے قریب کرتا ہے اور یہ تعلق اس لئے نہیں کہ دنیاوی مقاصد حاصل کرنے ہیں بلکہ اصل مقصد روحانیت میں ترقی کرنا اور خدا کا قرب پانا ہے۔پس جب اس مقصد کے حصول کے لئے ایک دوسرے کو توجہ دلا رہے ہوں گے تو اللہ تعالیٰ کے بے انتہا فضلوں کو سمیٹنے والے بن رہے ہوں گے اور جماعتی مضبوطی بھی پیدا ہورہی ہوگی۔لیکن اللہ تعالیٰ نے شرط وہی لگائی کہ خود بھی نمازوں کی طرف توجہ کرو۔اپنے عمل کی شرط ضروری ہے۔