خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 272 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 272

خطبات مسرور جلد پنجم 272 خطبہ جمعہ 29 جون 2007ء ہے۔اور اسلامی حکومت چلانے کے یہ اسلوب اس وقت آئیں گے اور شہریوں کے حقوق ادا کرنے کی توفیق تب ملے گی جب یہ بات ہر وقت پیش نظر ہو کہ اللہ تعالیٰ کی ذات مجھے ہر وقت دیکھ رہی ہے۔میرا کسی کے بھی حقوق غصب کرنا، مجھے اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے نہیں بچا سکتا کیونکہ اس کی ہر چیز پر نظر ہے۔پس ایک مسلمان کو یا مسلمان حکومت کو طاقت اور امن اور سلامتی مل جانے کے بعد حقیقی عبادت گزار بنا ہو گا۔کیونکہ حقیقی عبادت گزار بنے بغیر ، نمازوں کے قیام کے بغیر اللہ کا خوف دلوں میں پیدا نہیں ہو سکتا۔اور حقیقی نمازیں وہ ہیں جو اللہ کے خوف اور تقویٰ سے ادا کی جاتی ہیں۔ورنہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے بہت سارے نمازی ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے ہلاکت بھیجی ہے۔جن کی نمازیں منہ پر ماری جائیں گی۔تو یہ سوچنا ہو گا کہ کیا ہم وہ نمازیں ادا کر رہے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حکموں کے مطابق چلنے والے لوگوں کی نمازیں ہیں۔پھر مالی قربانی بھی کرنی ہوگی نہ یہ کہ ظلم کرتے ہوئے دوسروں کے مال کو غصب کر جائیں۔پھر نیکیوں کی تلقین ہے بری باتوں سے روکنا ہے اور یہ اللہ کے تقویٰ کے بغیر نہیں ہوسکتا۔پس ان سب باتوں کا خلاصہ یہ بنتا ہے کہ ایک اسلامی حکومت طاقت آنے کے بعد صرف اپنی طاقت کو غلط ذرائع سے بڑھانے میں مصروف نہ ہو جائے بلکہ بلا امتیاز مذہب ونسل ہر شہری کے حقوق کی حفاظت، غریبوں کو ان کا مقام دینا یہ اس کا کام ہے تا کہ معاشرے اور ملک میں امن اور سلامتی کی فضا پیدا ہو سکے۔اور خاص طور پر ہر شہری کے اُس کے ضمیر کے مطابق مذہب اختیار کرنے اور اس کے مطابق عبادت کرنے اور اس کی عبادتگاہوں کی حفاظت کی ضمانت دینا یہ ایک اسلامی حکومت کا کام ہے۔کیونکہ یہی چیز ہے جو امن اور سلامتی کی بھی ضمانت ہے۔پس آج تمام اسلامی حکومتوں کا کام ہے کہ اسلام کی یہ حقیقی تصویر تمام دنیا کے سامنے پیش کریں۔جماعت احمدیہ کے پاس تو حکومت نہیں ہے لیکن ہم دعا کر سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو یہ توفیق دے کہ یہ اسلام کی صحیح تصویر پیش کرنے والے بنیں تا کہ آج اسلام پر ہر طرف سے جو حملے ہو رہے ہیں اور جو حملے دراصل اسلام کو نہ سمجھنے اور بعض مسلمانوں کے غلط رویے اور غلط حرکات کی وجہ سے ہورہے ہیں، ان کو دنیا کے ذہنوں سے نکالا جائے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جنگ کی جو اجازت ہے اسلامی حکومت کو دی جاتی ہے، ان وجوہات کی وجہ سے جو پہلے بیان ہوئی ہیں۔لیکن اجازت کے باوجود اس کی حدیں مقرر کی گئی ہیں، اس کے قواعد وضوابط مقرر کئے گئے ہیں، کھلی چھٹی نہیں مل گئی۔جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے کہ اگر دشمن ظلم کرتا ہے تو تم بھی یہ نہ ہو کہ ظلم کرنے والے بنو بلکہ جس حد تک ہو سکتا ہے، اپنی جنگ کو اس حد تک محدود رکھو کہ جہاں صرف ظلم رُک جائے۔کسی قسم کی بھی زیادتی اسلامی حکومت کی طرف سے نہیں ہونی چاہئے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا۔إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ (البقرة: 191 ) اور اللہ کی راہ میں ان سے قتال کرو جو تم سے قتال کرتے ہیں اور زیادتی نہ کرو۔یقیناً