خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 271 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 271

خطبات مسرور جلد پنجم 271 خطبہ جمعہ 29 جون 2007ء نہیں کرنی۔ہم تو عام حالات میں بھی کسی پر ہاتھ نہیں اٹھاتے تو جو کلمہ گو ہیں ، جو اپنے آپ کو آنحضرت ﷺ کی طرف منسوب کرتے ہیں ان کے خلاف ہاتھ اٹھانے کا تو سوال ہی نہیں ہے۔وہ جو مرضی کرتے رہیں ہماری طرف سے ان کے لئے سلامتی کا پیغام ہی ہے۔ہم یہ یقین رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان ظالموں کو دُور کرنے کے راستے انشاء اللہ تعالیٰ خود کھولنے والا ہے۔آج نہیں تو کل یہ رستے انشاء اللہ تعالیٰ کھلیں گے اور احمدی انشاء اللہ ہر جگہ آزادی کا سانس لے گا۔لیکن ہمیں یہ بھی فکر رہتی ہے کہ اگر یہ حکومتیں اور ان کے شر پسند لوگ باز نہ آئے تو پھر اللہ تعالیٰ اپنی تقدیر کے مطابق جن کو دفاع کے لئے بھیجتا ہے وہ کہیں اپنی حدوں سے آگے نہ بڑھ جائیں کیونکہ ہوسکتا ہے کہ ان میں سے بہت سارے ایسے ہوں جو اسلامی تعلیم پر عمل کرنے والے نہیں ہیں۔ان کے لئے تو کوئی زیادتی کی حدیں نہیں ہیں وہ پھر حدیں پھلانگتے چلے جاتے ہیں۔پس ہمیں ان لوگوں کے لئے دعا بھی کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ان کو عقل دے۔یہ پیغام جہاں مظلوم مسلمانوں کے لئے تسلی کا پیغام ہے وہاں مسلمان کہلا کر پھر ظلم سے باز نہ آنے والوں کے لئے خوف کا مقام بھی ہے۔پس جیسا کہ میں نے کہا اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کی حفاظت کی اس پیغام میں ضمانت دی ہے۔مسلمان کہلا کر پھر اس پر عمل نہ کرنے والا خود اللہ تعالیٰ کی پکڑ کے نیچے آتا ہے۔تو جو بھی مسلمان کہلانے والے ہیں ان کو اسلام کو بدنام کرنے کی بجائے اس بات سے فیض پانے کی کوشش کرنی چاہئے کہ ہم اپنی حالتوں کو بدلتے ہوئے ، اللہ تعالیٰ کے حکموں کی زیادہ سے زیادہ تعمیل کریں، ورنہ اللہ تعالی کی مدد کبھی بھی شامل حال نہیں ہوگی۔اللہ کرے کہ مسلمانوں کو عقل آ جائے اور اس حکم کے تحت ہر مظلوم کا دفاع کرنے والے ہوں اور ہر ظالم کو ظلم سے روکنے والے بنیں کیونکہ مسلمانوں کی سلامتی بھی جیسا کہ میں نے کہا اسی سے وابستہ ہے۔اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ الَّذِينَ إِنْ مَكَّتُهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلوةَ وَاتَوُا الزَّكَوةَ وَاَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ وَلِلَّهِ عَاقِبَةُ الْأُمُورِ (الحج: 42) جنہیں اگر ہم زمین میں تمکنت عطا کریں تو وہ نماز کو قائم کرتے ہیں اور زکوۃ ادا کرتے ہیں اور نیک باتوں کا حکم دیتے ہیں اور بُری باتوں سے روکتے ہیں اور ہر بات کا انجام اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔پس یہ ہے ان لوگوں کا کام جب ان کے پاس طاقت آجاتی ہے۔جب اللہ کی مدد سے وہ ظالموں پر غالب آجائیں، جب ان کی اپنی حکومت ہو، جہاں وہ اسلامی طریق کے مطابق اپنی زندگی گزار سکیں تو پھر اپنے جائزے لیں اور سوچیں کہ یہ سب کچھ جو ملا ہے یہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ملا ہے۔ہم نے اب ان لوگوں جیسا نہیں ہونا جن کا مقصد لوگوں کو ان کی آزادیوں سے محروم کرنا ہے بلکہ ایک اسلامی حکومت سے بلا امتیاز مذہب یا دوسری وابستگیوں کے ہر شہری کے لئے آزادی رائے اور ضمیر کی توقع کی جاتی ہے۔ہر ایک کے لئے ملکی سیاست میں آزادی سے شمولیت کی توقع کی جاتی ہے جہاں ہر ایک کے لئے بحیثیت شہری ترقی کے یکساں مواقع میسر ہوں اور یہ اسلامی حکومتوں کا کام