خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 259 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 259

خطبات مسرور جلد پنجم 259 خطبہ جمعہ 22 جون 2007ء قوموں نے اپنے آپ کو دولت کا معیار رکھتے ہوئے ، یا عقل کا معیار رکھتے ہوئے ، یا طاقت کا معیار رکھتے ہوئے، یا علم کا معیار رکھتے ہوئے، تکبر کی وجہ سے یا اپنے آپ کو سب سے زیادہ امن وسلامتی کا علمبر دار سمجھتے ہوئے باقی قوموں سے بالا رکھا ہوا ہے۔مستقل نمائندگی اور غیر مستقل نمائندگی کے معیار قائم کئے ہوئے ہیں جو کبھی انصاف قائم نہیں کر سکتے۔بغیر روحانی آنکھ کے، اللہ تعالیٰ کی مدد اور تقویٰ کے نہ ہونے کی وجہ سے جب کسی ایک طاقت کو اکثریتی فیصلہ پر قلم پھیرنے کا اختیار ہوگا تو یہ اختیار سلامتی پھیلانے والا نہیں ہو سکتا۔پس دنیا میں سلامتی اگر پھیلے گی تو اس تعلیم سے جو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو دی ہے جس میں تقویٰ شرط ہے۔جس کی چند مثالیں اب میں یہاں پیش کرتا ہوں۔تمام قوموں کے بحیثیت انسان ہونے کے بارے میں قرآن کریم ہمیں تعلیم دیتا ہے۔فرمایا يَأَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَانْثَى وَجَعَلْنَكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَتْقَكُمْ إِنَّ الله عَلِيمٌ خَبِيرٌ (الحجرات : 14) کہ اے لوگو یقینا ہم نے تمہیں نر اور مادہ سے پیدا کیا ہے اور تمہیں قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کیا تا کہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔بلاشبہ اللہ کے نزدیک تم میں سے سب سے زیادہ معزز وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔یقینا اللہ دائمی علم رکھنے والا اور ہمیشہ باخبر ہے۔تو یہ ہے اسلامی بھائی چارے کی تعلیم۔اسلامی بھائی چارے کے قیام اور سلامتی کے قیام کے لئے اللہ تعالیٰ کا حکم۔ایک مومن کو جس میں اللہ تعالیٰ کا تقویٰ ہے، اس بھائی چارے کی تعلیم کو اپنے اوپر مکمل طور پر لاگو کر نے اور دنیا میں پھیلانے کے لئے یہ حکم دیا گیا ہے۔یہی وہ حکم ہے جس سے دنیا میں ایک دوسرے سے پیار محبت اور ایک دوسرے سے برادری کا تعلق قائم ہو سکتا ہے۔ورنہ جتنی چاہیں یہ سلامتی کونسلیں بنالیں وہ قوموں کی بے چینی اس لئے دور نہیں کرسکتیں کہ طاقتوروں نے اپنے اختیارات دوسروں سے زیادہ رکھے ہوئے ہیں۔پس دنیا کی سلامتی کی ضمانت اسی وقت دی جاسکتی ہے، دنیا کی بے چینی اسی وقت دور کی جاسکتی ہے جب قومی برتری کے جھوٹے اور ظالمانہ تصور کا خاتمہ ہو جائے گا۔یہ بے چینی اس وقت تک دور نہیں ہو سکتی جب تک نسلی اور قومی برتری کے تکبر دل و دماغ سے نہیں نکلتے۔دنیا میں سلامتی اس وقت تک قائم نہیں ہو سکتی جب تک یہ نسل، قوم اور ملک کی برتری کا احساس رکھنے والوں اور حکومتوں کے دماغوں میں یہ بات راسخ نہیں ہو جاتی کہ ہم آدم کی اولاد ہیں اور ہمارا وجود بھی قانون قدرت کے تحت مرد اور عوت کے ملاپ کا نتیجہ ہے اور ہم بحیثیت انسان خدا کی نظر میں برابر ہیں۔اللہ کی نظر میں اگر کوئی اعلیٰ ہے تو تقویٰ کی بنا پر اور تقویٰ کا معیار کس کا اعلیٰ ہے یہ صرف خدا کو پتہ ہے۔کوئی اپنے تقویٰ کے معیار کو خود Judge کرنے والا نہیں ہے۔خود اس معیار کو دیکھنے والا نہیں ہے ، پر کھنے والا نہیں ہے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہاری حیثیت، تمہارا دوسرے انسان سے اعلیٰ اور برتر ہونا اس کا کوئی تعلق نہ تمہاری نسل سے ہے نہ تمہاری قوم سے ، نہ تمہارے رنگ سے ہے، نہ تمہاری دولت سے ہے، نہ تمہارے اپنے معاشرے میں اعلیٰ مقام سے ہے۔نہ کسی قوم کا