خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 258
258 خطبہ جمعہ 22 جون 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم پس یہ تقویٰ ہی ہے جو دین کی بنیاد ہے اور جب تک مسلمانوں میں یہ قائم رہا وہ اللہ تعالیٰ کے سلامتی کے پیغام کو دنیا میں پھیلاتے چلے گئے اور سعید روحیں ان میں شامل ہوتی چلی گئیں اور اسلام عرب سے نکل کر ایشیا کے دوسرے ممالک میں بھی پھیل گیا ، مشرق بعید میں بھی پھیل گیا، افریقہ نے بھی اس کی برکتوں سے فیض پایا اور یورپ میں بھی اسلام کا جھنڈا لہرایا۔لیکن جب تقویٰ کی کمی ہوتی گئی ، جب سلامتی کی جگہ خود غرضیوں نے لے لی، جب محبت پیار کی جگہ حسد، بغض اور کینہ نے لے لی تو ان انعامات اور برکات سے بھی مسلمان محروم ہوتے چلے گئے جو اللہ تعالیٰ نے اپنا تقویٰ دلوں میں رکھنے والوں کے لئے مقدر کی ہوئی تھیں۔لیکن جیسا کہ میں نے کہا اللہ تعالیٰ نے بحروبر کے فسادوں کو دور کرنے کے لئے آخری تعلیم آنحضرت ﷺ پر اتاری۔آج بھی یہی تعلیم ہے جس نے اندھیروں کو روشنیوں میں بدلنا ہے۔آج بھی یہی تعلیم ہے جس نے دنیا کے فسادوں کو اپنی سلامتی کے پیغام سے دور کرنا ہے۔گو کہ وہ لوگ محروم ہو گئے جن کے دلوں سے تقویٰ نکل گیا اور خود غرضیوں اور حسد اور بغض میں بڑھ گئے لیکن خدا تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ جو اللہ تعالیٰ کے آخری شرعی نبی تھے سے کئے گئے اس وعدے کو کہ اسلام نے ہی تمام ادیان پر غالب آنا ہے واپس نہیں لے لیا۔محروم اگر ہوئے تو تقویٰ سے عاری لوگ ہوئے نہ کہ دین اسلام میں کسی قسم کی کمی ہوئی۔آج اللہ تعالیٰ نے اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے لئے اور اس کی ترقی کے لئے آنحضرت ﷺ کے عاشق صادق کو کھڑا کیا ہے۔آج مسلمانوں کی اس کھوئی ہوئی میراث کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ماننے والوں نے اسلام کی صحیح تعلیم پر عمل کرتے ہوئے اور اپنے دلوں کو تقویٰ سے پُر کرتے ہوئے واپس لانا ہے۔پس یہ احمدی کی ذمہ داری ہے کہ اس سلامتی کے پیغام کو ہر طرف پھیلاتا چلا جائے۔ہر دل میں یہ بات راسخ کر دے کہ اسلام تشدد کا نہیں بلکہ پیار اور محبت کا علمبردار ہے۔ہر سطح پر اسلام کی تعلیم امن اور سلامتی کو قائم رکھنے کی تعلیم ہے۔اسلام نے قوموں اور ملکوں کی سطح پر بھی امن اور سلامتی قائم کرنے کے لئے جو خو بصورت تعلیم دی ہے اس کا مقابلہ نہ کوئی انسانی سوچ کر سکتی ہے اور نہ کوئی مذہب کر سکتا ہے۔اس خوبصورت تعلیم پر عمل سے ہی دنیا کا امن اور سلامتی قائم ہو سکتے ہیں۔دوسری جنگ عظیم کے بعد بھی دنیا میں امن قائم کرنے کے لئے قوموں کی ایک تنظیم اقوام متحدہ کے نام سے ابھری لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ اس کا بھی حشر وہی ہوا اور ہورہا ہے جو اس سے پہلے قائم کردہ تنظیم کا تھا۔اس میں بڑے دماغوں نے مل کر بڑی منصوبہ بندی کی اور بڑی منصوبہ بندی سے یہ تنظیم بنائی۔اس میں کئی کمیٹیاں قائم کی گئیں۔سلامتی کونسل بنائی گئی تا کہ دنیا کا امن اور سکون قائم رکھا جائے ، جھگڑوں کو نپٹایا جائے۔معاشی حالات کے جائزے کے لئے کہ یہ بھی فسادوں کی ایک وجہ بنتی ہے، اس میں ایک کونسل بنائی گئی۔عدالت انصاف قائم کی گئی۔لیکن اس کے باوجود آج جو کچھ دنیا میں ہو رہا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔اس سب ناکامی کی وجہ تقویٰ کی کمی ہے۔اس میں بعض