خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 252
خطبات مسرور جلد پنجم 252 خطبہ جمعہ 15 / جون 2007ء حکم ہے کہ اس پر عمل کرنے والا صلح پیار اور سلامتی کے علاوہ اور کچھ نہیں پھیلاتا۔سود کے ضمن میں ہی ایک بات جو شاید مجھے بیان کر دینی چاہئے تھی لیکن بہر حال اب بیان کر دیتا ہوں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأكُلُوا الرِّبوا أَضْعَافًا مُضْعَفَةً وَاتَّقُوا اللهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (آل عمران: 131) کہ اے وہ لوگو! جو ایمان لائے ہو سو دو رسُود نہ کھایا کرو اور اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو تا کہ تم کامیاب ہو جاؤ۔اس پر بعض لوگ کہتے ہیں کہ سُود کی مناہی تو نہیں لیکن شود در سود کی مناہی ہے۔اب جیسا کہ ہم دیکھ آئے ہیں کہ اتنے واضح احکامات کے بعد یہ تفسیر ، یہ تشریح تو ویسے ہی غلط ہے۔اور یہ آیت پہلی آیات سے ٹکراتی نہیں ہے۔اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ارشاد بیان کرتا ہوں جس سے اس کی وضاحت ہو جاتی ہے۔کسی نے سرسید احمد خان کے حوالے سے اس بارہ میں بات کی تو آپ نے فرمایا: ” یہ بات غلط ہے کہ سو دو رسُود کی ممانعت کی گئی ہے اور سود جائز رکھا ہے۔یعنی سُود و رکود تو حرام ہے لیکن سُود جائز ہے۔فرمایا کہ شریعت کا ہرگز یہ منشاء نہیں ہے۔یہ فقرے اسی قسم کے ہیں جیسے کہا جاتا ہے کہ گناہ در گناہ مت کرتے جاؤ۔اس سے یہ مطلب نہیں ہوتا کہ گناہ ضرور کرو یا گناہ کرنے کی اجازت ہے۔(البدر جلد 2 نمبر 10 مورخہ 27 / مارچ 1903 ء صفحہ 75 ) پھر تجارت میں جن باتوں کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے تا کہ کسی قسم کا جھگڑا نہ ہو، فساد نہ ہو، رنجشیں نہ ہوں۔ان سب چیزوں سے محفوظ رہنے کے لئے یا لین دین اور قرض کی شرائط کس طرح ہونی چاہئیں ، اس بارہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن کریم کیا تعلیم دیتا ہے۔فرماتا ہے کہ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا تَدَايَنْتُمْ بِدَيْنِ إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى فَاكْتُبُوهُ وَلْيَكْتُبْ بَيْنَكُمْ كَاتِبٌ بِالْعَدْلِ وَلَايَابَ كَاتِبٌ أَنْ يَكْتُبَ كَمَا عَلَّمَهُ اللهُ فَلْيَكْتُبُ۔وَلْيُمْلِلِ الَّذِى عَلَيْهِ الْحَقُّ وَلْيَتَّقِ اللَّهَ رَبَّهُ وَلَا يَبْخَسُ مِنْهُ شَيْئًا۔فَإِنْ كَانَ الَّذِي عَلَيْهِ الْحَقُّ سَفِيهَا أَوْضَعِيفًا اَوْ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يُمِلَّ هُوَ فَلْيُمْلِلْ وَلِيُّهُ بِالْعَدْلِ۔وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِنْ رِجَالِكُمْ فَإِنْ لَّمْ يَكُونَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌ وَامْرَأَتَنِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ أَنْ تَضِلَّ إِحْدَاهُمَا فَتُذَكَّرَ إِحْدَاهُمَا الأخرى۔وَلَايَابَ الشُّهَدَاءُ إِذَا مَا دُعُوا وَلَا تَسْتَمُوا أَنْ تَكْتُبُوهُ صَغِيرًا اَوْ كَبِيرًا إِلَى أَجَلِهِ۔ذَلِكُمْ أَقْسَطُ عِنْدَ اللهِ وَاقْوَمُ لِلشَّهَادَةِ وَأَدْنَى أَلَّا تَرْتَابُوا إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً حَاضِرَةً تُدِيرُوْنَهَا۔، بَيْنَكُمْ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَلَّا تَكْتُبُوهَا وَأَشْهِدُوا إِذَا تَبَايَعْتُمْ وَلَا يُضَارَّ كَاتِبٌ وَّلَا شَهِيدٌ۔وَإِنْ تَفْعَلُوا فَإِنَّهُ فُسُوقَ بِكُمْ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَيُعَلِّمُكُمُ اللهُ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ (البقرة: 283) یعنی اے وہ لوگو! جو ایمان لائے ہو جب تم ایک معین مدت تک کے لئے قرض کا لین دین کرو تو اسے لکھ لیا کرو اور چاہئے کہ تمہارے درمیان لکھنے والا انصاف سے لکھے اور کوئی کا تب اس سے انکار نہ کرے کہ وہ لکھے۔پس وہ لکھے جیسا اللہ نے اسے