خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 251
خطبات مسرور جلد پنجم 251 خطبہ جمعہ 15 جون 2007ء ہے۔پس اللہ کا خوف اور اس کا تقویٰ انتہائی اہم چیز ہے۔ایک مسلمان جو کسی حکم پر عمل نہیں کرتا اور ایک غیر مسلم جو کسی نیکی پر عمل نہیں کر رہا ہوتا دونوں برابر ہیں۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کا موازنہ کرتے ہوئے اس طرح مثال دیتے ہیں کہ ایک غیر مسلم جو ہے وہ تو عاق شدہ بچے کی طرح ہے جس کو ماں باپ نے عاق کر دیا ہو۔اگر وہ نافرمان ہو چکا ہے اور باپ کی بات نہیں مانتا تو باپ نے اس سے تعلق تو ڑ لیا ہے۔وہ جو بھی کرتا رہے اس کے باپ کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔لیکن ایک مسلمان کی مثال ایک ایسے بچے کی طرح ہے جو فیملی ممبر ہے۔اگر وہ کوئی حرکت کرتا ہے تو پھر اسے سزا بھی ملتی ہے۔اگر غلط کام کرے گا تو اس مسلمان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس جہان میں بھی سزا مل سکتی ہے اور اگلے جہان میں بھی سزامل سکتی ہے یا دونوں جگہ جس طرح اللہ چاہے۔پس اگر اللہ تعالیٰ نے کسی کو یہ چھوٹ دی ہے کہ نافرمانیوں کے باوجود نہیں پکڑا تو یہ اس لئے ہے کہ اصلاح کر لو تا کہ سزا سے بچ سکو۔اس بارہ میں جو حکم ہے کہ اپنے بھائیوں کا خیال رکھو تو چاہئے کہ اپنے بھائیوں کو تنگی میں مبتلا کرنے کی بجائے ان کے لئے آسانیاں پیدا کرو، ان کے لئے سہولت پیدا کرو تا کہ سلامتی پھیلانے کی وجہ سے غریب کی دعائیں لینے والے بنو، اللہ تعالیٰ کا پیار حاصل کرنے والے بنو۔اور مقروض کو بھی یہ یاد رکھنا چاہئے کہ یہ مطلب نہیں کہ کسی نے قرض دے دیا تو پھر کہہ دیا کہ میرے پاس کشائش نہیں۔اس کو بھی یاد رکھنا چاہئے کہ جب کسی معاہدے کا وقت مقرر کیا ہے تو اس معاہدے کو نبھانا ضروری ہے۔پھر بہانے بنانے کی بجائے جس طرح بھی ہو قرض اتارنے کی کوشش کرنی چاہئے اور اگر توفیق نہیں تو پھر سچائی پر قائم رہتے ہوئے ساری صورت حال سے اپنے قرض دینے والے کو آگاہ کرنا چاہئے ، اس سے مہلت لینی چاہئے اور یہی چیزیں ہیں جو دونوں کو ، قرض لینے والے کو بھی اور قرض دینے والے کو بھی آپس میں صلح وصفائی سے رہنے اور پیار میں بڑھانے والی ہوں گی۔اگر ایک دوسرے کو دھوکہ دینے کی کوشش کریں گے تو خاص طور پر جو مقروض ہے اُسے یہ خیال نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ اس لئے بخش دے گا کہ میں غریب ہوں۔ہمیشہ یا درکھنا چاہئے کہ سچائی کو چھپانے والا جھوٹا ہے اور جھوٹا ہمیشہ خدا کے مقابلے پر کھڑا ہوتا ہے۔اس کو اللہ تعالیٰ نے نا پسند فرمایا ہے۔اگر قرض دینے والا یہ سوچ کر کہ اگر میں مقروض کی جگہ ہوتا اور حالات خراب ہوتے تو کیا میں نرمی کی توقع نہ رکھتا ؟ مہلت کی توقع نہ رکھتا؟ اس طرح اپنے مقروض سے معاملہ کرے اور اسی طرح جو قرض لینے والا ہے اگر یہ سوچ کر کہ اگر میں قرض دینے والا ہوتا تو کیا میں دھوکہ دینے والے مقروض کو برداشت کر سکتا؟ اپنے قرض لینے والے سے اس طرح معاملہ کرے تو دونوں طرف کی یہ سوچھیں پھر مثبت نتیجہ نکالنے والی ہوں گی اور اس طرف لے جائیں گی جہاں آپس میں تعلقات میں مزید بہتری پیدا ہوتی ہے اور اس طرح اس حدیث پر عمل کر رہے ہوں گے کہ حقیقی مسلمان کہلانے کے لئے ضروری ہے کہ جو اپنے لئے پسند کرتے ہو وہی اپنے بھائی کے لئے پسند کرو۔پس یہ ایک ایسا