خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 243
243 خطبہ جمعہ 8 /جون 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم ہے۔لیکن ان کی بھی سودی نظام سے جان نہیں چھوٹ سکی۔سود کا جو بھی نام رکھ لیں۔بعض جگہ انہوں نے کچھ تبدیلیاں کی ہیں لیکن عملی صورت سود دینے کی ہی ہے۔یہاں بھی امیر طبقہ جب بینکوں سے قرض لیتا ہے تو ادائیگی نہیں کرتا اور کچھ عرصے کے بعد وہ بڑی بڑی رقمیں معاف ہو جاتی ہیں۔لیکن غریب طبقہ جو ہے وہ پتا چلا جاتا ہے ، ساری سختیاں اسی پر ہو رہی ہوتی ہیں اور یہ باتیں پھر غریبوں میں بے چینی پیدا کرتی ہیں اور کسی طبقے کی بے چینی سے معاشرے میں سلامتی اور امن نہیں رہ سکتا۔تو جیسا کہ میں نے شروع میں ذکر کیا تھا کہ پاکستان میں مہنگائی اس قدر ہے کہ غریب حقیقت میں پریشان ہے اور وہاں جو حالات ہیں اس وجہ سے امیر اور غریب کے فاصلے بڑھ رہے ہیں۔جب یہ فاصلے بڑھتے ہیں تو پھر امن اور سلامتی کی ضمانت اس معاشرے میں نہیں دی جاسکتی۔پس جہاں پاکستان کے احمدی اپنے ملک کے لئے دعا کریں وہاں ہمارا بھی فرض ہے کہ جو پاکستان سے باہر دنیا کے مختلف ممالک میں آباد ہیں کہ پاکستان کی سلامتی کے لئے دعا کریں کیونکہ آجکل پاکستان بھی ایک بڑے خوفناک دور سے گزررہا ہے جس میں بہت سے عوامل ہیں لیکن ایک بڑی وجہ خود غرضی کا حد سے زیادہ بڑھ جانا بھی ہے۔اللہ تعالیٰ ہمارے ملک پر رحم کرے اور دنیا کے ہر اس ملک پر رحم کرے جو اپنوں کے ہاتھوں بھی اور غیروں کے ہاتھوں سے بھی ظلم کی چکی میں پس رہا ہے۔دنیا کے امیر ممالک نے غریب ملکوں کو مدد کے نام پر ایسے سودی قرضوں میں جکڑا ہوا ہے جس سے نکلنا اب ان کے لئے ممکن نہیں رہا اور یہ صورت بھی ایک غلامی کی صورت بن چکی ہے۔ایسی غلامیوں میں رد عمل بھی ہوتے ہیں اور جب رد عمل ہوں تو پھر نہ صرف اس ملک کا امن اور سکون برباد ہوتا ہے بلکہ دنیا سے بھی سلامتی اٹھ جاتی ہے اور قوموں کے خلاف نفرتیں جنم لیتی ہیں اور اس خوفناک نتیجے کی جو منطقی نتیجہ ہے، جو نکلنا تھا، اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی خبر دے دی ہے۔ہم مسلمانوں کو ہوشیار کر دیا ہے کہ اللہ کے نزدیک سودی روپیہ نہیں بڑھتا۔جس کوتم بظاہر بڑھا ہوا سمجھتے ہو وہ اللہ کی پھٹکار کی وجہ سے لعنت کی وجہ سے، بے برکت ہو جاتا ہے۔پس خاص طور پر مسلمانوں کو اور مسلمان حکومتوں کو بھی اگر اپنے آپ کو ان فسادوں سے باہر نکالنا ہے تو اللہ تعالیٰ کے حکموں پر عمل کر کے ہی نکالا جا سکتا ہے۔انصاف کے قاضوں پر چل کر ہی نکالا جاسکتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے بندوں کے حقوق کی ادائیگی کر کے ہی نکالا جا سکتا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ جو برائیاں معاشرے میں قائم ہو چکی ہیں۔جن چیزوں کو بعض لوگ شیر مادر سمجھ کر ہضم کرنے لگ گئے ہیں ، ادا ئیگی حقوق سے غافل ہو چکے ہیں، ان کی طرف توجہ دلانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے جس سلامتی کے شہزادے کو بھیجا ہے، اس کو ماننا ہوگا۔اس کے ماننے سے انکار کرو گے اور اس کے ماننے والوں سے ظالمانہ سلوک کرتے رہو گے تو پھر کبھی بھی ان فسادوں سے اور ان اندھیروں سے باہر نہیں نکل سکتے۔ضرورتمندوں کا خیال، زکوۃ کی ادائیگی اور سود کی مناہی کی جو آیات میں نے بیان کی ہیں ان آیتوں میں ایک آیت یہ ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِى النَّاسِ لِيُذِيقَهُمْ بَعْضَ الَّذِي عَمِلُوا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ (الروم:42) کہ لوگوں نے جو اپنے ہاتھوں سے بدیاں کمائیں ان کے نتیجے میں فساد خشکی پر بھی غالب آ گیا اور تری پر بھی تا کہ وہ انہیں بعض اعمال کا مزہ چکھائے تا کہ شاید وہ رجوع کریں۔