خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 240 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 240

خطبات مسرور جلد پنجم 240 خطبہ جمعہ 8 جون 2007ء ہے اور اس کے لئے اسلام میں زکوۃ دینے کا حکم ہے ، صدقہ دینے کا حکم ہے، ایک دوسرے کو تحفے دینے کا حکم ہے۔حدیث میں آتا ہے آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ایک دوسرے کو تحفے دواس سے محبت بڑھتی ہے۔زکوۃ کی اسلام میں کتنی اہمیت ہے۔اس کے لئے مختلف جگہوں پر قرآن کریم میں احکامات آتے ہیں۔کیونکہ یہی چیز ہے جس سے اسلامی حکومت کے خرچ بھی پورے ہوتے ہیں اور غریبوں کی ضروریات کا بھی خیال رکھا جاتا ہے۔جیسا کہ میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں قرآن کریم میں مختلف جگہوں پر ذکر کیا ہے اور نماز کے قیام کے ساتھ کئی جگہوں پر اس کا ذکر فرمایا ہے۔پس یہ بہت اہم چیز ہے اور جن پر یہ لاگو ہوتی ہے ان کو یہ ادا کرنی چاہئے اور اسی طرح جو صاحب حیثیت مسلمان ہے اس کے لئے اپنے مال میں سے قریبیوں اور ضرورت مندوں کے لئے بھی خرچ کرنا انتہائی ضروری ہے بلکہ فرض ہے۔غریبوں اور مسکینوں اور کمزور طبقے کا خیال رکھنا اس لئے بھی ضروری ہے کہ یہ طبقہ ہی ہے جو ملکی معیشت کی بہتری کے لئے خدمت کر رہا ہوتا ہے۔کارخانوں کے مزدور ہیں یا دوسری مختلف کاروباری جگہوں پر مزدور ہیں۔بڑے زمینداروں کے لئے محنت کرنے کے لئے ان کی زمینوں پر مزدور ہیں۔ہمارے ملکوں میں خاص طور پر زمینداروں میں اس پر بڑا زور دیا جاتا ہے۔یورپی ممالک میں تو مشینری سے اکثر کام ہو جاتا ہے لیکن تیسری دنیا میں تو مزدوروں پر بہت انحصار ہوتا ہے۔لیکن یہاں بھی جو صنعتی ممالک ہیں ان کی ترقی بھی مزدوروں کی ہی مرہون منت ہے۔اگر اس طبقے کی محنت اور مددشامل نہ ہو تو ملکی معیشت بھی ترقی نہیں کر سکتی۔اس لئے اس غریب طبقے کو اس کا حق ادا کرنے کا حکم ہے اور وہ یہ ہے کہ اس کی غربت سے فائدہ اٹھا کر اس کا حق نہ مارو، اس کو کم نہ دو۔اسی طرح ان کے حق میں ان کی دوسری ضروریات کا خیال رکھنا بھی شامل ہے۔اسلام ہی وہ مذہب ہے جو معاشرے میں ہر طبقے کے حق کا خیال رکھتا ہے۔اس کمزور طبقے کو بھی اس کا حق دلوانے کی طرف توجہ دلاتا ہے۔نہ ہی کوئی دوسرا مذ ہب اور نہ ہی کوئی اور ازم اس کا مقابلہ کر سکتا ہے۔اس لئے اب دیکھ لیں وہی اِزم جو غریبوں کے حقوق کے علمبر دار بن کر اٹھے تھے آہستہ آہستہ ختم ہو گئے یا ختم ہوتے جارہے ہیں اور دنیا کی بے سکونی کی کیفیت پھر بڑھ رہی ہے کیونکہ صرف پیسے سے سکون نہیں ملتا۔بلکہ اللہ تعالیٰ کا جو حکم ہے کہ میرے عابد بنو۔جب دونوں فریق ، ضرورت مند بھی اور ضرورت پوری کرنے والا بھی، اس حکم کی تعمیل کر رہے ہوں گے ، جب صاحب حیثیت اس سوچ کے ساتھ اپنے کمزوروں کی مدد کریں گے کہ میں نے خدا کا پیار حاصل کرنا ہے، اس کی رضا حاصل کرنی ہے تو پھر ہی حقوق کی ادائیگی کی طرف بھی اللہ تعالیٰ کی خاطر توجہ پیدا ہوگی۔یہ مددکوئی احسان نہیں ہے بلکہ ان کا حق ہے اور اس طرح سے جو مد دہورہی ہوگی وہ غریب طبقے کو مت سمجھ کر نہیں ہو رہی ہوگی بلکہ اس کی عزت نفس کا خیال رکھتے ہوئے ہو رہی ہو گی۔دینے والا خود لینے والے کا ممنون ہوگا کہ اس نے قبول کیا اور لینے والا دینے والے کا