خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 212
خطبات مسرور جلد پنجم 212 خطبہ جمعہ 25 رمئی 2007 ء اس میں گھر یلو معاملات پر بھی بحث کی گئی ہے، اس کی تعلیم دی گئی ہے۔معاشرتی معاملات کو بھی بیان کیا گیا ہے۔بین الاقوامی تعلقات کو قائم کرنے کے لئے بھی قرآن کریم میں بیان کیا گیا ہے۔تو بہر حال یہ مختلف صورتیں ہیں۔تمام تو آج بیان نہیں ہو سکتیں کچھ حد تک آج بیان کروں گا۔یہ انسانی فطرت ہے کہ جب وہ کسی کے لئے دعائیہ کلمات منہ سے نکالتا ہے تو خود بخود اس کے دل میں دوسرے شخص کے لئے نرم جذبات پیدا ہو جاتے ہیں سوائے اس کے کہ بالکل ہی کوئی منافقانہ طبیعت کا شخص ہو جو منہ سے کچھ کہنے والا ہو اور بغل میں چھری لئے پھرتا ہو۔لیکن ایک مومن جو اس یقین پر قائم ہے کہ مرنے کے بعد کی بھی ایک زندگی ہے اور مجھے کوشش کرنی چاہئے کہ مرنے کے بعد کی جس زندگی کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے، جس دار السلام کا مجھے راستہ دکھایا ہے، اس کے حصول کے لئے اپنا ظاہر و باطن ایک کروں اور جیسا کہ مجھے حکم ہے اپنے بھائی کو سلامتی کے جذبات پہنچاؤں۔تو صرف ظاہری منہ کی بات نہ ہو بلکہ دل کی گہرائی سے یہ سلامتی کی دعا نکلے تا کہ اللہ تعالیٰ سے سلامتی کی راہوں کی طرف ہدایت پانے والا بنوں اور اللہ تعالیٰ کے اذن سے اندھیروں سے نور کی طرف آؤں اور ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی رضا کا مورد بنتے ہوئے صراط مستقیم پر چلنے والا بنوں۔پس جب اس سوچ کے ساتھ ایک مومن کوشش کرتا ہے تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ معاشرے میں کوئی اس سے نقصان اٹھانے والا ہو۔بلکہ نقصان اٹھانا تو دور کی بات ہے، یہ بھی نہیں ہوسکتا کہ ایسے شخص سے کوئی دوسرا بے فیض رہے۔اب اللہ تعالیٰ کا ایک حکم ہے جو اخلاق کے معیاروں کو اونچا کرنے کے لئے بھی ضروری ہے، فساد اور شکوک و شبہات کو ختم کرنے کے لئے بھی ضروری ہے اور ایک دعا بھی ہے جس سے ایک دوسرے کے لئے پیارو محبت کے جذبات ابھرتے ہیں اور یہ حکم اس وقت سلام کہنے کا ہے جب تم کسی کے گھر جاؤ۔بجائے اطلاع دینے کے، دوسرے طریقے اپنانے کے، بہترین طریقہ کسی کے گھر پہنچ کر اطلاع دینے کا یہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے کہ گھر والوں کو اونچی آواز میں سلام کیا جائے۔بعض امیر لوگ جن کی بڑی بڑی کوٹھیاں ہیں یا ایسے بھی گھروں والے ہیں جن کے گھروں میں گھنٹی بجنے کی آواز نہیں پہنچ سکتی تو انہوں نے گیٹ پر فون لگائے ہوتے ہیں تا کہ اس کے ذریعہ سے پیغام پہنچایا جائے۔اگر گھنٹی بجائی ہے تو جب بھی گھر والا پوچھے تو پہلے سلام کیا جائے پھر نام بتایا جائے۔یہ ایک ایسا حکم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اس کی ہدایت فرمائی ہے۔فرماتا ہے کہ يَأَيُّهَا الَّذِينَ امَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتًا غَيْرَ بُيُوتِكُمْ حَتَّى تَسْتَأْنِسُوا وَتُسَلِّمُوا عَلَى أَهْلِهَا۔ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ۔(النور: 28) کہ اے وہ لوگو! جو ایمان لائے ہو، اپنے گھروں کے سوا دوسروں کے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو، یہاں تک کہ تم اجازت لے لو اور ان کے رہنے والوں پر سلام بھیجو۔یہ تمہارے لئے بہتر ہے تا کہ تم نصیحت