خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 180
خطبات مسرور جلد پنجم 180 خطبہ جمعہ 4 مئی 2007 ء ایک لمبا عرصہ ایسا بھی گزرا جس میں پاکستان اور ہندوستان کی حکومتوں کے تعلقات کی وجہ سے براہ راست مرکز سے یا اس جگہ سے جہاں خلیفہ وقت کی موجودگی تھی تعلق نہ رہا۔ایسے دور بھی آتے رہے جب آج کی طرح ذرائع مواصلات نہیں تھے اور جو تھے وہ منقطع ہو جاتے رہے لیکن درویشان نے جماعت اور خلافت سے محبت اور وفا کے غیر معمولی نمونے دکھائے اور اس بات پر ان کو تسلی ہوتی تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا پوتا اور حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیٹا ان کے درمیان موجود ہے اور اس بیٹے نے بھی خلافت سے محبت اور اطاعت نظام اور اطاعت امیر کے نمونے عملا دکھا کر جماعت کے احباب کو ہر وقت یہ احساس دلایا اور یہ احساس پیدا کرنے کی کوشش کی کہ جماعت اور خلافت ہی سب کچھ ہیں جس سے جڑے رہ کر ہم اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے والے بن سکتے ہیں۔تقریباً 30 سال آپ نے حضرت مولوی عبدالرحمن صاحب جٹ کی امارت کے دور میں نہایت عاجزی اور وفا کے ساتھ ایک عام کارکن کی حیثیت سے اپنے عہد وفا کونبھایا اور پھر جب حضرت خلیفتہ مسیح الثالث" نے آپ کو 1977ء میں ناظر اعلیٰ اور امیر مقامی بنایا تو اس اہم ذمہ داری کو بھی خوب خوب نبھایا۔درویشن بن کر گئے تھے تو درویشی میں زندگی گزاری، یہ خیال نہیں آیا کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا پوتا ہوں ، حالانکہ آپ کے مقام کی اہمیت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک موقع پر آپ کو فر مایا تھا جبکہ آپ پاکستان اپنی شادی کے سلسلہ میں آئے ہوئے تھے اور شادی کو ابھی چند دن ہی ہوئے تھے، اپنی اہلیہ کو ساتھ لے جانے کے لئے ان کے کاغذات کی تیاری کروا رہے تھے، تو جیسا کہ اس زمانے میں عموماً ہوتا تھا۔دونوں ملکوں کے تعلقات ذرا ذراسی بات پر خراب ہو جایا کرتے تھے (اب کچھ عرصہ سے ہی نسبتا کچھ بہتری آ رہی ہے۔یہ کھچاوٹ تو ہمیشہ سے رہی ہے۔تو ایسے ہی ایک موقع پر جب آپ وہیں تھے ، شادی کو چند دن ہوئے تھے، حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے محسوس کیا کہ حالات میں کھچاوٹ پیدا ہورہی ہے تو آپ نے میاں صاحب ( اپنے بیٹے ) کو کہا کہ بیوی کے کاغذات تو بنتے رہیں گے، ان کو تم چھوڑو اور فوری طور پر واپس چلے جاؤ کیونکہ اگر تم بھی یہاں رہے تو تمہارے نہ جانے سے خاندان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کوئی فرد قادیان میں نہیں رہے گا۔اس لئے فوری طور پر جہاز کی سیٹ بک کرواؤ ( کیونکہ آپ اس وقت بائی روڈ بارڈر کراس کر کے نہیں آئے تھے بلکہ حالات ایسے تھے کہ جہاز سے آئے تھے ) اور فوراً سیٹ بک کروا کے واپس چلے جاؤ اور اگر جہاز کی سیٹ نہیں بھی ہوتی تو چارٹر جہاز بھی کروانا پڑے تو کروا ؤ اور فوراً چلے جاؤ۔لیکن فوری جانا بہر حال ضروری ہے ورنہ لوگوں میں یہ تاثر پیدا ہو جائے گا کہ گویا قادیان خالی ہو گیا کیونکہ اگر خاندان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایسا نمونہ پیش نہ کیا اور