خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 176
خطبات مسرور جلد پنجم 176 خطبہ جمعہ 27 را پریل 2007 ء یعنی جماعت احمدیہ کا سلسلہ قائم کیا ہے اور اب وہی آیات و برکات ظاہر ہورہے ہیں جو اس وقت ہورہے تھے۔(ملفوظات جلد دوم صفحه 38-39 جدید ایڈیشن) کاش کہ یہ مخالفین عقل کریں اور سمجھیں کہ اسلام کی خدمت، قرآن کی خدمت اور آنحضرت ﷺ سے عشق و محبت کا دعوی تبھی سچ ثابت ہو گا جب مسیح و مہدی اور روح القدس سے تائید یافتہ کی جماعت میں شامل ہوں گے۔ان کو کچھ خوف کرنا چاہئے۔آج کل پھر مخالفت میں، خاص طور پر مسلمان ملکوں میں اور دوسرے ملکوں میں بھی بعض جگہ جہاں پر ان کا زور چلتا ہے خوب مخالفت میں بڑھے ہوئے ہیں، بجائے اس کے کہ لوگوں کے ، عوام کے، کم علم لوگوں کے جذبات کو انگیخت کریں جس سے معاشرے میں نفرتوں کے بیج کے علاوہ کچھ نہیں بور ہے۔وہ جو امن قائم کرنے کے لئے آیا تھا ، جس نے روح القدس سے حصہ پاتے ہوئے جانوروں کو انسان بنایا تھا یہ دوبارہ اس کی طرف منسوب ہوتے ہوئے انسانوں کو جانور بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ان کو چاہئے کہ مسیح مہدی کو مان کر اس عظیم شارع نبی جو خاتم النبین بھی ہے کہ قوت قدسی سے فیض اٹھا ئیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: اگر چہ مجھے افسوس ہے کہ بدقسمتی سے مسلمانوں میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ وہ خوارق اور اعجاز اب نہیں ہیں، پیچھے ہی رہ گئے ہیں، یعنی وہ معجزے اور غیر معمولی باتیں جو اللہ تعالیٰ دکھاتا ہے وہ اب نہیں رہے۔مگر یہ ان کی بدقسمتی اور محرومی ہے۔وہ خود چونکہ ان کمالات و برکات سے جو حقیقی اسلام ہے اور آنحضرت ﷺ کی سچی اور کامل اطاعت سے حاصل ہوتی ہیں محروم ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ یہ تاثیریں اور برکات پہلے ہوا کرتی تھیں اب نہیں۔ایسے بیہودہ اعتقاد سے یہ لوگ آنحضرت ﷺ کی عظمت و شان پر حملہ کرتے ہیں۔ختم نبوت کے جو نعرے لگاتے ہیں۔فرمایا: ” یہ لوگ آنحضرت ﷺ کی عظمت وشان پر حملہ کرتے ہیں اور اسلام کو بدنام کرتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے اس وقت جبکہ مسلمانوں میں یہ زہر پھیل گئی تھی اور خود مسلمانوں کے گھروں میں رسول اللہ ﷺ کی بہتک کرنے والے پیدا ہو گئے تھے مجھے بھیجا ہے تا کہ میں دکھاؤں کہ اسلام کے برکات اور خوارق ہر زمانے میں تازہ بتازہ نظر آتے ہیں۔فرمایا : ” اور لاکھوں انسان گواہ ہیں کہ انہوں نے ان برکات کو مشاہدہ کیا ہے اور صدہا ایسے ہیں جنہوں نے خودان برکات و فیوض سے حصہ پایا ہے اور یہ آنحضرت ﷺ کی نبوت کا ایسا ئین اور روشن ثبوت ہے کہ اس معیار پر آج کسی نبی کا متبع وہ علامات اور آثار نہیں دکھا سکتا جو میں دکھا سکتا ہوں۔جس طرح پر یہ قاعدہ ہے کہ وہی طبیب حاذق اور دانا سمجھا جاتا ہے جو سب سے زیادہ مریض اچھے کرے اسی طرح انبیاء عَلَيْهِمُ السَّلام سے وہی افضل ہوگا جو روحانی انقلاب سب سے بڑھ کر کرنے والا ہو اور جس کی تاثیرات کا سلسلہ ابدی ہو“۔ملفوظات جلد سوم صفحه 526 تا 527 جدید ایڈیشن)