خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 175
175 خطبہ جمعہ 27 اپریل 2007 ء خطبات مسرور جلد پنجم سے بڑھ کر کوئی معجزہ دکھانے والی یا ان کے بارے میں بتانے والی کتاب نہیں ہے۔اور نہ علم سے پر۔پھر فرماتے ہیں : "آپ خاتم النبین ٹھہرے اور آپ کی کتاب خاتم الکتب ٹھہری۔جس قدر مراتب اور وجوہ اعجاز کلام کے ہو سکتے ہیں ان سب کے اعتبار سے آپ کی کتاب انتہائی نقطہ پر پہنچی ہوئی ہے۔(ملفوظات جلد دوم صفحه 26 جدید ایڈیشن) پھر آنحضرت ﷺ کے مقام اور تاثیر قدسی کے بارے میں آج کل کے مولویوں کے خیالات کا رڈ کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ : اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ میں آج کل کے مولویوں کا رڈ ہے جو یہ مانتے ہیں کہ سب روحانی فیوض اور برکات ختم ہو گئے ہیں اور کسی کی محنت اور مجاہدہ کوئی مفید نتیجہ پیدا نہیں کر سکتا۔اور ان برکات اور ثمرات سے حصہ نہیں ملتا جو پہلے منعم علیہ گروہ کو ملتا ہے۔یہ لوگ قرآن شریف کے فیوض کو اب گویا بے اثر مانتے ہیں اور آنحضرت ﷺ کی تاثیرات قدسی کے قائل نہیں۔کیونکہ اگر اب ایک بھی آدمی اس قسم کا نہیں ہوسکتا جو نعم علیہ گروہ کے رنگ میں رنگین ہو سکے تو پھر اس دعا کے مانگنے سے فائدہ کیا ہوا۔مگر نہیں بیران لوگوں کی غلطی اور سخت غلطی ہے جو ایسا یقین کر بیٹھے ہیں ، خدا تعالیٰ کے فیوض و برکات کا دروازہ اب بھی اسی طرح کھلا ہے لیکن وہ سارے فیوض اور برکات محض آنحضرت ﷺ کی اتباع سے ملتے ہیں اور اگر کوئی آنحضرت ﷺ کی اتباع کے بغیر یہ دعوی کرے کہ وہ روحانی برکات اور سماوی انوار سے حصہ پاتا ہے تو ایسا شخص جھوٹا اور کذاب ہے۔66۔پھر آپ فرماتے ہیں : یہ جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو فرمایا اِنَّا اَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَر (الكوثر : 2) اس وقت کی بات ہے کہ ایک کافر نے کہا کہ آپ کی اولاد نہیں ہے۔معلوم نہیں اس نے ابسر کا لفظ بولا تھا جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ۔(الکوثر : 4) تیرا دشمن ہی بے اولا در ہے گا۔روحانی طور پر لوگ آئیں گے وہ آپ ہی کی اولاد سمجھے جائیں گے اور آپ کے علوم و برکات کے وارث ہوں گے اور اس سے حصہ پائیں گے۔اس آیت کو مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلكِنْ رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّين (الاحزاب: 41) کے ساتھ ملا کر پڑھو تو حقیقت معلوم ہو جاتی ہے۔اگر آنحضرت ﷺ کی روحانی اولاد بھی نہیں تھی پھر معاذ اللہ آپ ابتر ٹھہرتے ہیں۔جو آپ کے اعداء کے لئے ہے۔آپ کے دشمنوں کے لئے۔اور إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَر (الکوثر: 2) سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو روحانی اولا د کثیر دی گئی ہے۔پس اگر ہم یہ اعتقاد نہ رکھیں کہ کثرت کے ساتھ آپ کی روحانی اولاد ہوئی ہے تو اس پیشگوئی کے بھی منکر ٹھہریں گے۔اس لئے ہر حالت میں ایک سچے مسلمان کو یہ ماننا پڑے گا اور ماننا چاہئے کہ آنحضرت ﷺ کی تاثیرات قدسی ابدال آباد کے لئے ویسی ہی ہیں ، ہمیشہ کے لئے ہیں۔” جیسی تیرہ سو برس پہلے تھیں۔چنانچہ ان تاثیرات کے ثبوت کے لئے ہی خدا تعالیٰ نے یہ سلسلہ قائم کیا ہے۔