خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 126 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 126

126 خطبہ جمعہ 30 مارچ 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم ان لوگوں کے لئے محض ایک عطیہ ہے جو اس پر ایمان لائے اور جنہوں نے اس کی اطاعت کرنے اور اس کے احکام کو قبول کرنے ، اس کی عبادت کو بجالانے اور اس کی معرفت حاصل کرنے کے لئے حیران کن تیزی سے قدم بڑھایا۔پس تمام احکامات پر عمل کرنے اور حیران کن تیزی سے قدم نیکیوں کی طرف بڑھانے کے باوجود بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو نیک اجر ملنا ہے وہ حق نہیں ہے۔جو ان اعمال کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ اس دنیا میں بھی اور اُس دنیا میں بھی ہمیں عطا فرماتا ہے، جس کا اس نے وعدہ کیا ہوا ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطیہ ہے، احسان ہے۔اور کوئی عقلمند انسان عطیہ اور احسان کو حق نہیں سمجھ سکتا۔اور اس عطیہ کی انتہا اس وقت ہوتی ہے، اس کی مالکیت کا جلوہ اس وقت انتہا کو پہنچتا ہے جس کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ۔۔۔گو وہ اطاعت کے معاملہ کو پورے کمال تک نہ پہنچا سکے اور نہ عبادت کا پورا حق ادا کر سکے ہوں اور نہ ہی معرفت کی حقیقت کو پوری طرح پاسکے ہوں۔لیکن ان باتوں کے حصول کے شدید خواہش مند ر ہے ہوں۔یعنی حصول تو نہ ہو۔اس چیز کو، ان نیکیوں کو پا تو نہ سکے ہوں لیکن ان کی خواہش ہو۔حصول کی طرف بڑھنے کی کوشش ہو اور شدید خواہش کی ابتداء ہو چکی ہوتو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو بھی نیک جزا دیتا ہے۔کیونکہ یہ عطیہ اور احسان ہے اور مالک حق رکھتا ہے جس پر جتنا چاہے احسان کرے۔اگر اللہ تعالیٰ صرف عدل کرنے والا ہوتا تو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے وہ لوگ حصہ نہ پا سکتے جو صرف کوشش کرنے والے ہیں۔کیونکہ ایسے لوگوں نے وہ مرتبہ حاصل نہیں کیا جس کے حصول کی وہ کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔اسی طرح بدی کرنے والوں کے متعلق آپ نے فرمایا کہ (جو) بُرے عمل کرتے رہے اور بدی کرنے پر اپنی جرات میں ترقی کرتے گئے۔اور وہ (بدی کے کاموں سے ) رکنے والے نہ تھے“۔کرامات الصادقین روحانی خزائن جلد 7 صفحه 116 عربی ترجمه از تغییر حضرت مسیح موعود جلد اول صفحہ 136-135) ایسے لوگ پھر اللہ تعالیٰ کی سزا کے اندر آتے ہیں۔تو مالک کیونکہ بااختیار ہوتا ہے اس لئے عدل سے بڑھ کر احسان کر سکتا ہے۔ہمیشہ احسان اور بخشش کی دعامانگنی چاہئے ورنہ انصاف تو پھر اُسی طرح ہو گا جس طرح میں نے پہلے ایک مثال دی ہے۔لیکن یہ جو بدی کرنے والے ہیں یہ بھی اگر اصرار نہ کریں اور نیکی کی طرف قدم بڑھانا شروع کر دیں۔تو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو سمیٹتے ہیں۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً اَوْظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللهَ فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوبِهِمْ وَمَنْ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا اللهُ وَلَمْ يُصِرُّوا عَلَى مَا فَعَلُوا وَهُمْ يَعْلَمُونَ (آل عمران: 136) یعنی نیز وہ لوگ جو کسی بے حیائی کا ارتکاب کر بیٹھیں یا اپنی جانوں پر کوئی ظلم کریں تو اللہ کا بہت ذکر کرتے ہیں اور اپنے گناہوں کی بخشش طلب کرتے ہیں اور اللہ کے سوا کون ہے جو گناہ بخشا ہے اور جو کچھ وہ کر بیٹھے ہوں اس پر جانتے بوجھتے ہوئے اصرار نہیں کرتے۔لیکن اگر اصرار کریں گے تو پھر اللہ تعالیٰ کی پکڑ کے نیچے آتے ہیں۔پس ایسے محسن مالک کے در پر نہ جھکنا کتنی بڑی بد بختی ہے۔اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو بھی عقل دے جو خدا