خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 102
خطبات مسرور جلد پنجم 102 خطبہ جمعہ 9 مارچ 2007ء کر کے سچا خشوع اور خضوع پیدا کرتی ہے کیونکہ اس صفت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ مالک جزا ہے۔کسی کا حق نہیں جو دعویٰ سے کچھ طلب کرے اور مغفرت اور نجات محض فضل پر ہے۔ایام الصلح روحانی خزائن جلد 14 صفحه 243 پس مالكِيتِ يَوْمِ الدِّین کی صفت سے فیض پانے کے لئے نیک اعمال بجالانا، اللہ تعالیٰ کے حکم پر چلنا ، اس کی عبادت کی طرف توجہ دینا انتہائی ضروری چیزیں ہیں تا کہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بن سکیں اور یوں مغفرت اور نجات حاصل کرنے والے ہوں۔اس کا ایک اور پہلو بھی ہے۔اس کو حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان فرمایا ہے۔یہ ترتیب بغیر حکمت کے نہیں ہے اس ترتیب میں بھی بڑی حکمت ہے۔آپ نے بڑی تفصیل سے اس پر روشنی ڈالی ہے، خلاصہ میں اس کو بیان کر دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ پہلے ربوبیت جو اللہ تعالیٰ کے رب ہونے کی صفت ہے، اس کے تحت نشو و نما کے لئے ماحول تیار فرماتا ہے۔کسی چیز کو پیدا کرنے کے بعد اس کو بڑھانے کے لئے اس کا ماحول مہیا کرتا ہے۔وہ سامان پیدا فرماتا ہے جس میں نشو و نما ہو سکتی ہے۔پھر یہ سامان رحمانیت کے تحت بندے کو دیتا ہے۔اس کے استعمال میں بھی آنے شروع ہو جاتے ہیں کہ اس کے لئے بھی روحانی ترقی ہو۔آپ نے یہ روحانیت کے لئے زیادہ بیان فرمایا ہے لیکن دنیاوی لحاظ سے بھی یہی ہے۔پھر جب بندہ اس سے فائدہ اٹھاتا ہے تو اس کے اعلیٰ نتائج پیدا فرماتا ہے اور یہ رحیمیت ہے ، دعاؤں کو بھی پھل دیتا ہے اور چیزوں کو بھی پھل لگاتا ہے اور پھر مسلسل ان نتائج یا انعامات کے بعد مالکیت کی صفت کے تحت دنیا پر غلبہ دے دیتا ہے اور یہ اللہ تعالی نے الہی جماعتوں کی تقدیر کھی ہوئی ہے کہ وہ غلبہ عطا فرماتا ہے۔تو اللہ تعالیٰ کے لئے یہ ترتیب اس طرح سے ہے، پہلے رب ، پھر رحمان، پھر رحیم اور پھر مَالِكِ يَوْمِ الدِّين۔اس کا موازنہ حضرت مصلح موعودؓ نے کیا کہ بندے کے لئے کیا ترتیب ہوگی۔اس میں بھی یہی ترتیب ہوئی چاہئے یا کوئی مختلف ترتیب ہوگی۔تو اس کے لئے فرمایا کہ بندے کے لئے اللہ تعالیٰ کی ان صفات سے فائدہ اٹھانے کے لئے یا ان کا اظہار کرنے کے لئے ترتیب بدل جاتی ہے۔کیونکہ بندے نے اللہ تعالیٰ کی طرف ترقی کرنی ہے اوپر جانا ہے۔وہ پہلے مالک کی صفت کا مظہر بننے کی کوشش کرتا ہے تا کہ جو طاقتیں اللہ تعالیٰ نے اسے دی ہیں۔اس سے انصاف اور عدل دنیا میں قائم کرے، اپنے ماحول میں قائم کرے اور شر سے بچنے کے لئے اور ماحول کو شر سے بچانے کے لئے کوشش کرے۔پہلے مالکیت آئے گی۔اس کے لئے اس مالکیت کے وقت میں بعض معاملات سے صرف نظر بھی کرنا پڑتا ہے۔چاہے وہ رحم کی نیت سے ہو یا در گذر کی وجہ سے ہو۔پھر رحیمیت کا اظہار بندے کی طرف