خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 101 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 101

101 خطبہ جمعہ 9 مارچ 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کے حد سے بڑھے ہوئے ہونے کی وجہ سے اور جزا سزا کے دن کے انکار کی وجہ سے ویل يَوْمَئِذٍ لِلْمُكَذِّبِينَ (المطففين : 9) اس دن جھٹلانے والوں کے لئے عذاب ہوگا۔پس اللہ تعالیٰ مَلِک بھی ہے اور مالک بھی ہے اور اسے تصرف میں پوری آزادی حاصل ہے۔نیک اعمال کرنے والوں کو جزا دیتا اور برے اعمال کرنے والوں کو سزا دیتا ہے۔اور مالِكُ ہونے کی حیثیت سے اس کو یہ بھی اختیار ہے کہ اگر چاہے تو معاف فرما دے۔جیسا کہ وہ فرماتا ہے اَلَمُ تَعْلَمُ اَنَّ اللهَ لَهُ مُلْكُ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ يُعَذِّبُ مَنْ يَّشَاءُ وَيَغْفِرُ لِمَنْ يَّشَاءُ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (المائدة: (41) کیا تو نہیں جانتا کہ اللہ ہی ہے جس کی آسمانوں اور زمین کی بادشا ہی ہے۔وہ جسے چاہتا ہے عذاب دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے بخش دیتا ہے۔اور اللہ ہر چیز پر جیسے وہ چاہے دائمی قدرت رکھتا ہے۔اس کا یہ بھی مطلب نہیں کہ بغیر کسی اصول کے بلاوجہ اللہ تعالی پکڑ کر سزا دے دیتا ہے۔اس کا یہ مطلب ہے کہ جزا سزا کے دن ، جیسا کہ میں نے پہلے کہا، کوئی اپیل نہیں ہوگی، اس وقت کوئی واویلا کام نہیں آئے گا۔اس لئے اللہ تعالیٰ اعمال کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ نیک عمل ہو تو میری رضا حاصل کرنے والے ہو گے۔جب تمہیں پتہ ہے کہ کوئی چیخ و پکار کوئی اپیل اُس وقت کام نہیں آئی تو اپنے ایمانوں کو بھی مضبوط کرو، اپنے اعمال کی اصلاح کرو۔سزا دینے میں تو اللہ تعالی انتہائی نرمی کا سلوک فرماتا ہے۔ایک حدیث میں آیا ہے کہ اس کا رحم اس کے غصہ پر غالب آجاتا ہے۔“ (صحیح بخاری کتاب التوحيد باب قول الله تعالى بل هو قرآن مجيد في لوح محفوظ حدیث (7554) پس کس قدر بد بختی ہوگی کہ انسان اس کے باوجود ایسے ارحم الراحمین خدا کے غضب کا مورد بنے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: "مَالكِيتِ يَوْمِ الدِّین اپنے فیضان کے لئے فقیرانہ تضرع اور الحاح کو چاہتی ہے۔اگر اس سے فیض اٹھاتا ہے تو انتہائی عاجزی سے ، دعاؤں سے اس کے آگے جھکنا ضروری ہے اور صرف اُن انسانوں سے تعلق رکھتی ہے جو گداؤں کی طرح‘ ( فقیروں کی طرح) حضرت احدیت کے آستانہ پر گرتے ہیں اور فیض پانے کے لئے دامن افلاس پھیلاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کا فیض حاصل کرنے والے انتہائی عاجز اور غریب آدمی کی طرح اپنا دامن پھیلاتے ہوئے ان کے سامنے حاضر ہوتے ہیں اور سچ مچ اپنے تئیں تہی دست پا کر خدا تعالیٰ کی مالکیت پر ایمان لاتے ہیں۔ان کو حقیقت میں اس بات کا علم ہوتا ہے اس کا پورا فہم و ادراک رکھتے ہیں۔اور اس عاجزی کے ساتھ اللہ کے حضور پیش ہوتے ہیں کہ ہم بالکل خالی ہاتھ ہیں ہمارے پاس کچھ نہیں ہے اور اس کی مالکیت پر مکمل ایمان ہے۔پھر فرمایا " یہ چارالہی صفتیں ہیں جو دنیا میں کام کر رہی ہیں اور ان میں سے جو رحیمیت کی صفت ہے وہ دعا کی تحریک کرتی ہے۔اور مالکیت کی صفت خوف اور قلق کی آگ سے گداز