خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 97
خطبات مسر در جلد پنجم 97 خطبہ جمعہ 9 مارچ 2007ء اسی کو ہر چیز کا مکمل طور پر تصرف ہے۔مالک ہونے کی حیثیت سے ، رب ہونے کی حیثیت سے، اس کا حق ہے۔علامہ فخرالدین رازی کہتے ہیں کہ مَالِكِ يَوْمِ الدِّین کا مطلب ہے، دوبارہ اٹھائے جانے اور جزا سزاد یئے جانے کے دن کا مالک۔اس کی تفصیل اس طرح ہے کہ نیکی بجالانے والے اور گناہگار، فرمانبردار اور نافرمان، موافق اور مخالف کے درمیان فرق ہونا ضروری ہے اور یہ فرق صرف جزا سزا کے دن ہی ظاہر ہو سکتا ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ لِيَجْزِيَ الَّذِينَ أَسَاءُ وُا بِمَا عَمِلُوا وَيَجْزِيَ الَّذِيْنَ اَحْسَنُوا بِالْحُسُنی (النجم : 32) تا کہ وہ ان لوگوں کو جو بُرائیوں کے مرتکب ہوئے ہیں ان کے عمل کی جزا دے اور وہ ان کو بہترین جزا دیتا ہے جو بہترین عمل کرتے ہیں۔پھر قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَمْ نَجْعَلُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ كَالْمُفْسِدِينَ فِي الْأَرْضِ۔أَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِينَ كَالْفُجَّارِ (ص: (29) کیا ہم ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک اعمال بجالائے ویسا ہی قرار دے دیں گے جیسا کہ زمین میں فساد کرنے والوں کو ، یا کیا ہم تقویٰ اختیار کرنے والوں کو بد کرداروں جیسا سمجھ لیں گے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ السَّاعَةَ آتِيَةٌ أَكَادُ أُخْفِيْهَا لِتُجْزَى كُلُّ نَفْسٍ بِمَا تَسْعَى (طه: 16) ساعت ضرور آنے والی ہے بعید نہیں کہ میں اسے چھپائے رکھوں تا کہ ہر نفس کو اس کی جزا دی جائے جو وہ کوشش کرتا ہے۔پھر امام رازی کہتے ہیں کہ نیز واضح ہو کہ جس نے ایک ظالم کو مظلوم پر زور بخشا ہے، اگر وہ ظالم سے انتقام نہ لے تو یہ یا تو اس کے عاجز ہونے کی بنا پر ہوتا ہے کہ کوئی انتقام نہیں لیتا۔کمزوری ہے تو اس لئے انتقام نہیں لیتا، یا لا علم اور جاہل ہونے کی وجہ سے یا پھر اس بنا پر کہ وہ خود بھی ظالم کے ظلم سے راضی ہے۔تو کہتے ہیں کہ یہ تینوں باتیں اللہ تعالیٰ کے متعلق قرار دینا محال ہے۔سولازمی ہوا کہ وہ مظلوموں کی خاطر ظالموں سے انتقام لے۔لیکن جبکہ اس دنیا وی گھر یعنی دنیا میں ظالم سے انتقام لیا جانا بکمالہ نہیں ہوتا اس لئے لازمی ٹھہرا کہ اس دنیا وی گھر کے بعد ایک اُخروی گھر ہو۔یہی مضمون ہے جو مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ اور فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهُ۔وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهُ الزلزال : 8-9) میں بیان ہوا ہے۔(التفسير الكبير لامام رازی زیر آیت مالك يوم الدين جیسا کہ میں نے کہا تھا کہ بعض علماء کے نزدیک مَالِكِ يَوْمِ الدِّین کی دوسری قرآت مَلِكِ يَوْم الدین بھی ہے۔لیکن علامہ فخر الدین رازی کہتے ہیں کہ مَالِكِ يَوْمِ الدِّین کی قراءت کو تر جیح دیتا ہوں ، اس کے لئے وہ لکھتے ہیں کہ لفظ ملک کی نسبت مالك بندے کو اپنے رب کے فضلوں پر کہیں زیادہ امید دلانے والا ہے کیونکہ ملک یعنی بادشاہ سے زیادہ سے زیادہ جو امید رکھی جاسکتی ہے وہ عدل و انصاف ہے اور یہ کہ انسان اس سے