خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 90
خطبات مسرور جلد پنجم 90 خطبہ جمعہ 2 / مارچ 2007 ء ظلم ہے۔وہ ہستی جس نے کائنات کو پیدا کیا تمہارا رب ہے، تمہیں پالنے والا ہے۔اپنی رحمانیت کے صدقے ہماری ضروریات کی تمام چیزیں اس نے مہیا کی ہیں۔پس یہ چیز تقاضا کرتی ہے کہ اس بات پر اس کی شکر گزاری کرتے ہوئے اس کے آگے جھکوتا کہ اس کی رحیمیت سے بھی حصہ پاؤ، ورنہ تم اپنے آپ پر بڑا ظلم کرنے والے ہو گے۔اللہ تعالیٰ کے مقابلے پر دوسروں کو اپنا رب سمجھ کر اللہ تعالیٰ کی رحیمیت سے فیض پانے کی بجائے اس سے دور ہٹ رہے ہو گے، اپنی عاقبت خراب کر رہے ہو گے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں تمام گناہ بخش دوں گا۔لیکن شرک کا گناہ نہیں بخشوں گا۔پھر فرمایا۔إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَّشَاءُ (النساء : 49) الله تعالى اس گناہ کو ہر گز نہیں بخشے گا کہ اس کا کسی کو شریک بنایا جائے اور جو گناہ اس کے علاوہ ہیں ان کو جس کے حق میں چاہے گا معاف کر دے گا۔پس اللہ تعالیٰ کی رحیمیت سے حصہ پانے کے لئے ہر قسم کے شرک سے، وہ ظاہری ہے یا مخفی ہے، بچنے کی کوشش کرنی چاہئے۔آنحضرت ﷺ نے اپنی امت کو اس بارے میں کس طرح نصیحت فرمائی ہے کہ ہر قسم کے شرک سے بچتے رہیں ، اس کا ایک روایت میں یوں ذکر ملتا ہے۔حضرت معاذ بن جبل روایت کرتے ہیں کہ میں گدھے پر سوار تھا کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس سے گزرے۔آپ نے مجھے فرمایا اے معاذ! کیا تو جانتا ہے کہ اللہ کا بندوں پر کیا حق ہے اور بندوں کا اللہ پر کیا حق ہے۔میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔( یہ بھی صحابہ کا ایک طریقہ تھا۔) آپ نے فرمایا کہ بندوں کا اللہ پر حق یہ ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں اور کسی چیز کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں۔اور اللہ پر بندوں کا حق یہ ہے کہ جب وہ یہ اعمال کر لیں تو وہ ان کو عذاب میں مبتلا نہ کرے۔(سنن ابن ماجه كتاب الزهد باب ما يرجى من رحمة الله يوم القيامة۔حديث نمبر (4296 لیکن بد قسمتی ہے کہ آجکل مسلمانوں کی بڑی تعداد مخفی شرک میں مبتلا ہے۔گدی نشینوں ، پیروں فقیروں کے پاس جا کر یا قبروں پر جا کر دعائیں مانگتے ہیں۔وہ بزرگ جن کی قبروں پہ جاتے ہیں ان کو اپنی نجات کا ذریعہ بنایا ہوا ہے۔بہت سارے ایسے ہیں جو اپنی ساری زندگی وحدانیت کی تعلیم دیتے رہے مگر ان کے مزاروں پر جا کر شرک کیا جاتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ کی رحیمیت کو جذب کرنے کے لئے عذاب سے بچنے کے لئے آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ یہ جو ہر قسم کے شرک ہیں ان سے بچو۔اور ہمارا ہر احمدی کا یہ بھی فرض ہے کہ اس کے خلاف ہمیشہ جہاد کرتا رہے۔بعض احمد یوں میں بعض جگہوں پر یہ باتیں پیدا ہو جاتی ہیں۔بعض لوگوں کو جادو ٹونے ٹوٹکے دم درود کی طرف بہت زیادہ اعتقاد بڑھ گیا ہے جس کا کوئی وجود ہی نہیں ہوتا۔اس لئے اس سے ہمیشہ بچنا چاہئے۔اب میں چند واقعات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے آپ کے سامنے رکھوں گا کہ آپ کا سینہ ودل لوگوں کے لئے ہمدردی کے جذبات سے کس طرح پر تھا۔اپنے آقا و مطاع حضرت محمد مصطفی ﷺ کی سنت پر چلتے ہوئے ، آپ کے اسوہ پر عمل کرتے ہوئے آپ نے کیا نمونے دکھائے۔