خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 89
89 خطبہ جمعہ 2 / مارچ 2007 ء خطبات مسرور جلد پنجم خاموش رہو، یہ مجھ سے ایسے معاملے کے بارے میں سوال کر رہا ہے جو اس کے لئے بہت اہمیت کا حامل ہے۔پھر آنحضور ﷺ نے کہا کہ اپنا قصہ دوبارہ مجھے سناؤ۔چنانچہ اس نے سارا واقعہ دوبارہ سنایا۔اس واقعہ کو دوبارہ سن کر آنحضور کے آنسو آپ کی آنکھوں سے بہتے ہوئے آپ کی داڑھی تک جا پہنچے۔پھر آنحضور نے اس کو کہا کہ اللہ تعالیٰ نے جاہلیت کے اعمال سے در گزر فرمایا ہے۔پس اب تم نئے سرے سے اعمال کا آغاز کرو۔(سنن الدارمی باب نمبر 1۔ماكان عليه الناس قبل مبعث النبي عن الجهل والضلالة۔حديث نمبر (2 یہ معاملہ اس کے لئے اہمیت کا حامل اس لئے تھا کہ وہ اس لئے حاضر ہوا تھا کہ کیا اتنے بڑے بڑے گناہ کرنے کے بعد بھی میرے بخشے جانے کا ، مجھ پر اللہ کی رحمت کے نازل ہونے کا ، رحمت سے حصہ لینے کا کوئی امکان ہے؟ تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ وہ جہالت کا زمانہ تھا وہ گزر گیا۔اب نیک اعمال کرو گے، صالح عمل بجالاؤ گے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے حصہ پاتے چلے جاؤ گے۔اللہ تعالیٰ تمہارے لئے رحمت کے سامان فرمائے گا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جنہوں نے توبہ کی اور نیک عمل کئے ، آئندہ کے لئے اگر وہ نیک اعمال کی ضمانت دیں تو ان کو میں بخش دوں گا۔پھر عورتوں کے حقوق قائم کرنے کے لئے ، ان سے رحم کا سلوک کرنے کے لئے اور اللہ تعالیٰ کا رحم حاصل کرنے کے لئے ایک مثال دی ہے۔حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے آپ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عورتوں سے بھلائی سے پیش آیا کرو۔عورت یقینا پسلی سے پیدا کی گئی ہے۔پہلی کے اوپر کے حصہ میں زیادہ کبھی ہوتی ہے۔اگر تم اس کو سیدھا کرنے کی کوشش کرو گے تو اسے توڑ دو گے۔اور تم اسے چھوڑ دو گے تو وہ ٹیڑھی ہی رہے گی۔پس تم عورتوں سے بھلائی سے ہی پیش آؤ۔(صحیح بخاری کتاب احادیث الانبیاء با ب خلق آدم صلوات الله علیه و ذريته حدیث نمبر (3331 مقصد یہ ہے کہ جس کام کے لئے وہ بنائی گئی ہے، جس شکل میں وہ بنائی گئی ہے اسی سے اس سے کام لو گے تو بہتر رہے گی۔پہلی کو سیدھا کرنے کی کوشش کریں تو پسلیاں ٹوٹ جاتی ہیں اور جس مقصد کے لئے بنائی گئی ہیں یعنی انسان کے جسم کے اس حصہ کی حفاظت وہ نہیں کر سکتی جس میں دل بھی آتا ہے پھیپھڑے بھی ہیں یا اور چیزیں بھی ہیں۔اسی طرح اگر تم لوگ چاہتے ہو کہ اپنے گھروں کی حفاظت کرو، اپنے بچوں کی تربیت و نگہداشت صحیح طریقے سے کرو، ان کے پالنے کے صحیح سامان کرو تو عورت کو جس شکل میں وہ ہے اس سے کام لو۔چھوٹی چھوٹی باتوں پر عورتوں کو موردالزام ٹھہرانا، ان کے نقص نکالنا، جھگڑے پیدا کرنا، مسائل پیدا کرنا یہ باتیں تمہارے گھروں کو بھی برباد کرنے والی ہے اور تمہیں اللہ تعالیٰ کی رحمت سے بھی محروم کرنے والی ہیں۔اس لئے فرمایا اس سے اسی طرح کام لو جس طرح اس کی شکل ہے۔اور ہر چیز کو اللہ تعالیٰ نے کسی مقصد کے لئے پیدا کیا ہے اور اس کے مطابق ہی اُس کو شکل عطا کی ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَاعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا (النساء : (37) کہ تم الله تعالیٰ کی عبادت کرو اور کسی کو اس کا شریک نہ بناؤ کیونکہ إِنَّ الشَّرُكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ (لقمان: 14) شرک بہت بڑا