خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 74 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 74

خطبات مسرور جلد چهارم 74 خطبہ جمعہ 03/فروری 2006ء اس کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔یا ابھی 726 یا 728 سال باقی ہیں یا 200 سال باقی ہیں۔اور بجائے یہ کہنے کے کہ یہ غلط ہے جھوٹا آدمی ہے۔اللہ تعالیٰ کے اس انذار کو رڈ کرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ سے رہنمائی مانگیں۔اس سے رہنمائی مانگتے ہوئے اس کی پناہ میں ان لوگوں کو آنے کی کوشش کرنی چاہئے۔اللہ تعالیٰ سب مسلمانوں کو عقل و شعور دے جو اس انذار کی شدت کو سمجھ نہیں رہے اور نام نہاد علماء یا دنیا کے لہو ولعب کے پیچھے بھٹک رہے ہیں۔کیونکہ یہ اکٹھے نہیں ، مذہب سے کوئی تعلق نہیں ان کی بعض حرکتیں بیہودہ ہیں اسی وجہ سے غیروں کو بھی موقع مل رہا ہے کہ جو اسلام پر بھی اعتراض کرتے ہیں اور بعض بیہودہ لغو ستم کی باتیں لکھتے اور شائع کرتے ہیں جس طرح پچھلے دنوں میں ایک کارٹون بنا کے شائع کیا گیا جس پر اب شور مچا رہے ہیں۔تو یہ ان کی اپنی حرکتیں ہی ہیں جن کی وجہ سے غیروں کو موقع مل رہا۔مخالفین کو موقع مل رہا ہے۔اور یہ اب جماعت احمدیہ ہی ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم کے مطابق ان چیزوں کا بھی رو گرتی ہے اور اللہ کے فضل سے اس کا اثر بھی ہوتا ہے۔اب ڈنمارک میں اخبار کے ایڈیٹر یا لکھنے والے نے جو معافی مانگی ہے۔پہلے تو ضد میں آگئے تھے۔اڑ گئے تھے کہ نہیں جو ہم نے کیا ہے ٹھیک ہے۔لیکن جب ہمارا وفد ملا ، ان کو بتایا، سمجھایا تو ان کے کہنے پہ یہ معافی مانگی گئی ہے نہ کہ ان کے احتجاج پر۔ان کے سامنے انہوں نے اعتراف کیا ہے کہ ہاں تمہاری دلیل ٹھیک ہے اس پہ ہم معذرت کرتے ہیں۔دوسرے یورپین ملکوں میں بھی ہو رہا ہے تو وہاں بھی جماعت کو چاہئے کہ جا کے مل کے ان کو سمجھائیں۔کیونکہ بعض حرکات اپنوں کی ایسی ہیں جس کی وجہ سے اس طرح کی بیہودہ اور لغوحرکتیں غیروں کو کرنے کا موقع ملتا ہے۔سورۃ تکویر میں جہاں اس زمانے کے حالات کی پیشگوئیاں ہیں وہاں اسلام کی آئندہ ترقی بھی مسیح موعود کے ذریعہ سے ہی وابستہ کی گئی ہے۔ان کے ذریعہ سے اکٹھے ہونے کی خبر دی گئی ہے۔اس لئے ان لوگوں میں سے کسی کو اس خیال میں نہیں رہنا چاہئے کہ مسیح موعود کو مانے بغیر اسلام اپنی کھوئی ہوئی طاقت حاصل کر لے گا۔یا یہ لوگ اپنی کھوئی ہوئی طاقت حاصل کر لیں گے۔جس طرح ان کا نظریہ ہے صرف خنر سیروں کو مارنا ہی تو نہیں رہ گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ اس کے لئے تو یہ عیسائی قوم ہی کافی ہے، مارتے رہتے ہیں اور کھاتے رہتے ہیں، تو مسیح بیچارے کو آنے کی ، اس مشکل میں پڑنے کی کیا ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ مسلمان کہلانے والے علماء کو بھی عقل دے اور مسلمان امت کو بھی کہ یہ حق کو پہچان سکیں۔اللہ تعالیٰ ان کا سینہ کھولے، دماغ کھولے۔ہمارا کام ان کے لئے دعا بھی کرنا ہے اور ان کو راستہ بھی دکھانا ہے، اور وہ ہمیں کرتے چلے جانا چاہئے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔kh5-030425