خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 637
637 خطبہ جمعہ 22 /دسمبر 2006 ء خطبات مسرور جلد چهارم ك إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى الَّذِي فَطَرَنِي أَفَلَا تَعْقِلُوْنَ (هود : 52) میرا اجر اس ہستی کے ذمہ ہے جس نے مجھے پیدا کیا ہے کیا پھر بھی تم عقل سے کام نہیں لیتے۔اور یہ پیغام بھی ہر احمدی کا فرض ہے کہ اس قوم کے ہر فرد تک پہنچا دے کہ اے بھولے بھٹکے ہوئے لوگو! اے اللہ تعالیٰ کی راہ سے ہٹے ہوئے لوگو! اللہ تعالیٰ نے تم پر رحم کرتے ہوئے اس زمانے میں بھی اپنے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نمائندگی میں اپنا ایک نبی مبعوث فرمایا ہے۔پس بجائے اسلام اور بانی اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر الزام تراشی کرنے اور اللہ تعالیٰ پر بدظنی کرنے کے اور نعوذ باللہ اس رحمن خدا کو ظالم قرار دینے کے، اس خدا کی پناہ میں آ جاؤ جو ماں باپ سے بھی زیادہ اپنے بندوں پر مہربان ہوتا ہے۔وہ اپنے بندے کو آگ سے بچانے کے لئے دوڑ کر آتا ہے بشر طیکہ بندہ بھی اس کی طرف کم از کم تیز چل کر آنے کی کوشش تو کرے۔سنو اس زمانے کے امام اور اللہ تعالیٰ کے اس نبی نے کس پیار اور ہمدردی سے اپنے مبعوث ہونے کے مقصد سے آگاہ کیا۔آپ فرماتے ہیں : ” وہ کام جس کے لئے خدا نے مجھے مامور فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ خدا میں اور اس کی مخلوق کے رشتہ میں جو کدورت واقع ہوگئی ہے اس کو دُور کر کے محبت اور اخلاص کے تعلق کو دوبارہ قائم کروں اور سچائی کے اظہار سے مذہبی جنگوں کا خاتمہ کر کے صلح کی بنیاد ڈالوں اور وہ دینی سچائیاں جو دنیا کی آنکھ سے مخفی ہو گئی ہیں ان کو ظاہر کر دوں اور وہ روحانیت جو نفسانی تاریکیوں کے نیچے دب گئی ہے اس کا نمونہ دکھاؤں“۔لیکچر لاہور۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 180) پس آج ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے علم و عرفان اور دلائل کے بے بہا خزانے دے کر اس کام کے لئے کھڑا کیا ہے۔ہر احمدی جس کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے سچا عہد بیعت ہے اس کا یہ فرض بنتا ہے کہ اپنے اس عہد بیعت کو نبھاتے ہوئے بھی اور اس جذ بہ ہمدردی کے تحت بھی جس کے اظہار کا ہمیں اس طرح حکم ہے کہ جو چیز اپنے لئے پسند کرتے ہو، اپنے بھائی کے لئے پسند کرو اس پیغام کو جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے ہمارے سپر دفرمایا ہے اس قوم کے ہر فرد تک پہنچا ئیں جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے اور اس کے عملی نمونے ہم آج کل دیکھ بھی رہے ہیں۔عملاً یہی کچھ ہو رہا ہے کہ اس کدورت کی وجہ سے اس بدظنی اور میل کی وجہ سے جو نام نہاد مذہبی رہنماؤں نے اپنے ذاتی مفادات کے لئے بندے اور خدا میں پیدا کر دی ہے بندے اور خدا میں دُوری پیدا ہوگئی ہے۔kh5-030425