خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 620
620 خطبہ جمعہ 15/دسمبر 2006 ء خطبات مسرور جلد چهارم رب العالمین، رحمن آیا ہے۔جیسا کہ فرمایا الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ۔اَلرَّحْمَن“۔پھر آپ فرماتے ہیں : ” فیضان رحمانیت ایسا تمام ذی روحوں پر محیط ہو رہا ہے کہ پرندے بھی اس فیضان کے وسیع دریا میں خوشی اور سرور سے تیر رہے ہیں اور چونکہ ربوبیت کے بعد اسی فیضان کا مرتبہ ہے اس جہت سے اللہ تعالیٰ نے سورۃ فاتحہ میں رب العالمین کی صفت بیان فرما کر پھر اس کے رحمن ہونے کی صفت بیان فرمائی تا تر تیب طبعی ان کی ملحوظ رہے۔اس بات کو کھولنے کے لئے کہ صفت رحمانیت کیا ہے اور کس طرح تمام ذی روح اس سے فیض حاصل کر رہے ہیں اس کے لغوی معنے اور مختصر تفسیر میں زیادہ تر حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے الفاظ میں اور ایک آدھ پرانے مفسرین سے بھی ذکر کروں گا۔مفردات امام راغب میں لکھا ہے کہ رحمت ایسی نرمی کو کہتے ہیں جو اس شخص پر احسان کئے جانے کی مقتضی ہو۔یعنی ایسی نرمی ہو جس سے کسی شخص پر احسان کیا جائے ، اس کا تقاضا کرتی ہو۔ضرورت ہو احسان کی جس پر رحم کیا جا رہا ہے۔کبھی رحمت کا لفظ محض نرمی کرنے کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے، صرف احسان نہیں ہے بلکہ نرمی ہے اور کبھی محض ایسے احسان کے معنے میں استعمال ہوتا ہے جس کے ساتھ نرمی شامل نہ ہو، احسان تو ہو نرمی نہ ہو۔اس کی مثال انہوں نے دی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں کہتے ہیں کہ رَحِمَ اللهُ فلانا یعنی اللہ تعالی نے فلاں پر احسان فرما دیا ہے۔اور جب رحمت کا لفظ اللہ تعالی کے لئے استعمال ہو تو محض احسان کے معنے میں ہی آتا ہے اور نرمی او سختی کے جذبات کو انہوں نے انسان کے ساتھ مختص قرار دیا ہے۔پھر کہتے ہیں کہ اگر انسانوں کے حوالے سے آئے تو اس سے مراد نرمی کرنا ہے اور شفقت کے جذبات کے ساتھ مائل ہونا ہے۔پھر کہتے ہیں اسی مفہوم میں حدیث قدسی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے رحم کو پیدا کیا تو فرمایا میں رحمن ہوں تو رحیم ہے، میں نے تیرا نام اپنے نام میں سے بنایا ہے۔پس جس نے تجھے جوڑا میں بھی اس سے اپنا تعلق جوڑوں گا اور جس نے تجھے کاٹا میں اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دوں گا۔تو یہ رحم کا رحمی رشتہ سے تعلق ہے۔یہ جو قریبی رشتے ہیں ان سے اللہ تعالیٰ کی صفت رحمانیت کو جوڑا گیا ہے۔پھر کہتے ہیں کہ جو حدیث پڑھی گئی ہے اس میں اس مضمون کی طرف بھی اشارہ ہے کہ رحمت دو پر مشتمل ہے، ایک الرّفة نرمی اور دوسرے الْإِحْسَان، احسان کرنا۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ رَحْمَنُ الدُّنْيَا ہے اور رَحِیمُ الْآخِرَةِ ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کا احسان اس دنیا میں مومن و کافر ہر ایک پر عام ہے جبکہ آخرت میں صرف مومنین سے ہی مختص ہوگا اور اس مضمون کے بارے میں کہتے ہیں معنوں پر kh5-030425