خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 619
خطبہ جمعہ 15 دسمبر 2006 ء 619 50 خطبات مسرور جلد چهارم فیضان رحمانیت تمام ذی روحوں پر محیط ہے۔یہ فیض عام ہے جو ہر ایک کو پہنچ رہا ہے اور اس میں انسانوں یا حیوانوں کے قومی کے کسب اور عمل اور کوشش کا کوئی دخل نہیں فرمودہ مورخہ 15 / دسمبر 2006ء(15 / فتح 1385 هش) مسجد بیت الفتوح ، لندن تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے درج ذیل آیت کی تلاوت فرمائی: هُوَ اللهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ عَلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ۔هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمِ (الحشر: 23) وہی اللہ ہے جس کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔غیب کا جانے والا ہے اور حاضر کا بھی۔وہی ہے جو بن مانگے دینے والا ، بے انتہا رحم کرنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔گزشتہ خطبوں میں میں صفت رب کا ذکر کر رہا تھا۔اس صفت کا قرآن کریم کی پہلی سورۃ میں ہی ذکر شروع ہو جاتا ہے جیسا کہ میں نے بتایا تھا بلکہ اس کی ابتداء میں ہی ، پہلی صفت جو اللہ تعالیٰ کی بتائی گئی ہے وہ رب ہے۔اور اس صفت رب کا قرآن کریم میں ابتداء سے لے کر آخر تک مختلف رنگ میں ذکر ہوا ہے۔اس کی کچھ مثالیں میں نے پیش کی تھیں۔بہر حال آج جس صفت کا ذکر میں کرنے لگا ہوں وہ اللہ تعالیٰ کی صفت رحمن ہے۔جس کا ذکر پہلی سورۃ یعنی سورۃ فاتحہ میں صفت ربّ کے بعد کیا گیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ خدا کا نام سورۃ فاتحہ میں بعد صفت kh5-030425