خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 609
خطبات مسرور جلد چهارم 609 خطبہ جمعہ 08/دسمبر 2006ء حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ باری باری یہ پیالہ سب کو پکڑا تے جاؤ۔کہتے ہیں تب میں نے دل میں خیال کیا کہ اب تو یہ دودھ مجھے نہیں مل سکتا۔بہر حال کہتے ہیں میں پیالے کو ہر آدمی کے پاس لے جاتا رہا، سارے اچھی طرح سیر ہو کر پیتے رہے، آخر میں پیالہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا تو آپ نے میری طرف دیکھا اور مسکرا کے فرمایا کہ اباھتر ! میں نے کہا یا رسول اللہ۔آپ نے فرمایا اب تو صرف ہم دونوں رہ گئے ہیں۔میں نے کہا حضور ٹھیک ہے۔اس پر آپ نے فرمایا کہ بیٹھو اور خوب پیو، جب میں نے بس کیا تو فرمایا ابو ہریرہ اور پیو۔میں پھر پینے لگا۔جب میں پیالے سے منہ ہٹاتا تو آپ فرماتے ابو ہریرہ اور پیو، جب اچھی طرح سیر ہو گیا تو عرض کیا کہ جس ذات نے آپ کو سچائی کے ساتھ بھیجا ہے اس کی قسم اب تو بالکل گنجائش نہیں۔چنانچہ میں نے پیالہ آپ کو دے دیا۔آپ نے پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد کی پھر بسم اللہ پڑھ کر دُودھ نوش فرمایا۔(بخارى كتاب الرقاق باب كيف كان عيش النبي صلى الله عليه وسلم واصحابه وتخليهم من الدنيا ) تو یہ ہے رب ، جورب العالمین بھی ہے جس نے ظاہری اسباب کے قانون کے تحت ایک دودھ کا پیالہ مہیا فرمایا اور پھر اس میں اتنی برکت ڈالی کہ وہ کئی بھوکوں کی بھوک ختم کرنے کے کام آ گیا۔پھر ایک روایت میں آتا ہے، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سحری کے بغیر روزہ رکھنے سے منع فرمایا تو مسلمانوں میں سے ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ تو سحری کے بغیر روزہ رکھتے ہیں۔آپ نے فرمایا تم میں سے کون میری مانند ہے، میرا رب مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے۔بعض مواقع ایسے آتے ہوں گے کہ بھوک کا احساس اس طرح نہیں ہوتا۔مگر جب لوگ سحری کے بغیر روزے سے باز نہ آئے تو آپ نے ایک دن ان کے ساتھ سحری کے بغیر روزہ رکھا، پھر ایک اور روزہ رکھا، پھر جب لوگوں نے چاند دیکھا تو حضور نے فرمایا اگر چاند نظر نہ آتا تو میں کئی دن تک تمہارے لئے اسی طرح روزہ رکھتا جاتا۔گویا ان لوگوں کے باز نہ آنے کی وجہ سے سزا کے طور پر اور یہ بتانے کے لئے فرمایا کہ تمہاری استعدادیں میرے برابر نہیں ہوسکتیں ، میں تو اللہ کا نبی ہوں۔(بخارى كتاب الصوم باب التفكيل لمن اكثر الوصال اس زمانے میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ آپ کے غلام صادق کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے یہ سلوک فرمایا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے چھ ماہ مسلسل روزے رکھے۔اس کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ ایام جوانی میں ایسا اتفاق ہوا کہ ایک بزرگ معمر صورت مجھ کو خواب میں دکھائی دیا اور اس نے یہ ذکر کر کے کہ کسی قدر روزے انوار سماوی کی پیشوائی کے لئے رکھنا kh5-030425