خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 598 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 598

خطبات مسرور جلد چهارم 598 خطبہ جمعہ یکم دسمبر 2006 ء اپنے رب کو مخاطب کر کے نیکوں کے ساتھ وفات کے وقت شامل ہونے کی دعا کر رہے ہوں گے، یہ دعا کر رہے ہوں گے کہ اے اللہ ہمیں اپنے تمام احکامات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما تا کہ ہمارا شمار بھی ان لوگوں میں ہو جو کامل فرمانبردار ہوں اور صرف تیری عبادت کرنے والے ہوں اور جو فَادْخُلِي فِى عِبَادِي وَادْخُلِي جَنَّتِی ( الفجر : 30-31) کے انعام کے حاصل کرنے والے ہوں۔ایک مومن کا کام تو یہ ہے کہ یہ مقام حاصل کرنے کے لئے ایمان لانے کے بعد، یہ اعلان کرنے کے بعد کہ میں ایمان لے آیا، رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ (النمل:20 ) ( کہ اے میرے رب تو مجھے توفیق بخش کہ میں تیری نعمت کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھے پر کی ہے ) کی دعا مانگتے ہوئے اس اللہ کے شکر گزار ہوں، اپنے رب کے شکر گزار ہوں جس نے ہم پر یہ فضل فرمایا ہے کہ ایمان کی توفیق بخشی۔اور پھر اس کے ساتھ ہماری توجہ اس طرف ہونی چاہئے اور ہمیں یہ دعا کرنے والے ہونا چاہئے کہ وَاَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَهُ وَاَدْخِلْنِي بِرَحْمَتِكَ فِي عِبَادِكَ الصَّلِحِينَ (النمل: 20) کہ اے میرے رب ان نیک اعمال بجالانے کی مجھے توفیق دے جو تجھے پسند ہوں اور پھر اس کے نتیجہ میں تو ہمیں اپنی رحمت میں سمیٹتے ہوئے اپنے نیک بندوں میں شامل کر لے۔رفضلوں۔پس نیک نیتی سے یہ دعا کرنے والے اور اعمال صالحہ بجالانے والے اللہ تعالیٰ کے فض فَادْخُلِي فِي عِبَادِي وَادْخُلِي جَنَّتِی کا انعام حاصل کرنے والے ہوتے ہیں۔پس جب ہم اپنے رب سے دعائیں مانگتے ہیں جو ہمارے رب نے ہمیں سکھائی ہیں تو ضروری ہے کہ اس کے لوازمات بھی پورے کئے جائیں اور یہ لوازمات جیسا کہ ہم نے دیکھا ہے اعمال صالحہ ہیں۔پس یہ کہنا کہ یہ خطبہ فلاں کے لئے ہے اور یہ تقریر فلاں کے لئے ہے، اپنے آپ کو اپنی دعاؤں سے محروم کرنے والی بات ہے۔ایک طرف تو ہم کہیں کہ ہم اپنے رب سے دعا مانگتے ہیں کہ ہمیں اپنا قریب ترین مقام عطا فرما لیکن دوسری طرف ہم کہیں کہ دعا تو یہی ہے لیکن یہ دعا ہم اپنی شرائط پر مانگنا چاہتے ہیں۔دنیا میں بھی کہیں یہ طریق نہیں کہ مانگنے والے کہیں کہ مجھے دو بھی اور دو بھی میری شرطوں کے مطابق۔ایسے شخص کو دنیا پاگل کے علاوہ اور کیا کہے گی ؟ ایسے شخص کو بیوقوف سمجھا جائے گا۔لیکن دنیاوی معاملات میں بعض اوقات ہو بھی جاتا ہے۔گزشتہ دنوں کسی نے مجھے لکھا کہ میرا رشتہ نہیں ہوتا ، نظارت رشتہ ناطہ پاکستان تعاون نہیں کرتا۔جب میں نے رپورٹ لی تو پتہ لگا کہ رشتے تو کئی تجویز کئے ہیں لیکن پسند نہیں آئے اور وجہ یہ تھی کہ لڑکے نے کہا کہ رشتہ میری شرط کے مطابق ہونا چاہئے۔خود یہ صاحب میٹرک پاس ہیں، تعلیم معمولی ہے اور شرط ی تھی کہ لڑکی پڑھی لکھی ہو، ایم اے ہو اور کام کرتی ہو، کما کے لانے والی ہو، شادی پر مجھے مکان بھی ملے، دس بیس لاکھ روپیہ نقد بھی ملے ، میرا خرچ بھی اٹھائے اور پھر یہ کہ صرف خرچ ہی نہ اٹھائے بلکہ مجھے کام کرنے کے لئے نہ سرال والے اور نہ ہی لڑکی کچھ کہے، جب مرضی ہو کام کروں یا نہ کروں۔تو ایسے شخص kh5-030425