خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 595 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 595

خطبات مسرور جلد چهارم 595 خطبہ جمعہ یکم دسمبر 2006 ء افسوس ہے کہ انسانوں کی اکثریت اس بات پر اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہونے کی بجائے کہ کن کن انعامات سے اس نے انسان کو نوازا ہے، اللہ تعالیٰ سے جو رب العالمین ہے منہ موڑ رہی ہے۔لیکن یہ چیز ایک احمدی سے اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ اُس کا شکر گزار بنتے ہوئے اس کے بتائے ہوئے طریق پر اس کی عبادت کی جائے۔نظر دوڑا کر دیکھ لیں ، غور کر کے دیکھ لیں ، ہمیں صرف اور صرف وہی ایک رب نظر آئے گا جو قرآن کریم نے ہمیں دکھایا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جس کی طرف رہنمائی فرمائی ہے یہی وہ رب ہے جو ہمیں یہ ساری نعمتیں مہیا فرمارہا ہے جورب العالمین ہے۔پس وہی ہے جو یہ سب نعمتیں دینے کی وجہ سے تعریف کا حقدار ہے اور عبادت کے لائق ہے نہ کہ چھوٹے چھوٹے رب جو انسان نے بنائے ہوئے ہیں کہ ان کی طرف توجہ کی جائے جو کچھ بھی دینے کی طاقت نہیں رکھتے اور جن کو اپنے آپ کو بچانے اور سنبھالنے کے لئے دوسروں کی مدد کی ضرورت ہے۔پس ان سب باتوں کی طرف توجہ دلانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر تعلیم اتار کر یہ اعلان کروا دیا، جیسا کہ میں نے پہلے تلاوت میں کہا تھا قُلْ إِنِّي نُهِيْتُ أَنْ أَعْبُدَ الَّذِينَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُونِ اللَّهِ کہ مجھے منع کیا گیا ہے کہ میں اُن کی عبادت کروں جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو، کسی اور کے آگے جھکنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔سیدھا راستہ دکھائے جانے کے بعد یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوسکتا کہ میں نافرمانوں میں شامل ہو جاؤں۔میں اللہ تعالیٰ کے نشان دیکھ چکا ہوں جو میرے ایمان کو مضبوطی بخشتے ہیں۔پس میں اللہ کے حکم سے یہ اعلان کرتا ہوں کہ وَأُمِرْتُ أَنْ أَسْلِمَ لِرَبِّ الْعَلَمِيْن کہ مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں تمام جہانوں کے رب کا کامل فرمانبردار ہو جاؤں۔میں نا شکر گزارلوگوں کی طرح ، رب کی پہچان نہ کرنے والے لوگوں کی طرح، غیر اللہ کی طرف نہیں جھک سکتا۔اتنے روشن نشانوں اور اپنے رب کے اتنے احسانوں کے بعد سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ میں کسی اور کی عبادت کروں۔پس اب ہمارے قدم اسی رب العالمین کی عبادت کی طرف بڑھیں گے جس کے لئے انسان پیدا کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنی عبادت کا حکم دینے کے بعد بے یار و مددگا اور بغیر کسی راہنما کے نہیں چھوڑ دیا۔بلکہ اس زمانے میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی اور اپنے وعدے کے مطابق ہماری حالت زار کو دیکھتے ہوئے ایک منادی کو اتار دیا ہے۔جہاں اللہ تعالیٰ ہماری مادی اور ظاہری ضروریات کو پورا کرنے کے لئے اپنی ربوبیت کے جلوے دکھا رہا ہے وہاں مسیح و مہدی موعود علیہ الصلوۃ و السلام کو بھیج کر اللہ تعالیٰ نے ہماری روحانی غذا کا بھی انتظام فرما دیا۔ہمیں اپنی طرف آنے والے راستوں کی نشاندہی بھی کر دی ہے اور رہنمائی کرنے کے لئے ایک رہنما بھی عطا فرما دیا ہے۔ہم اُس رہنما کو ماننے والے ہیں اور یہ اعلان کرتے ہیں کہ رَبَّنَا إِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِيًا يُنَادِى لِلْإِيْمَان کہ اے ہمارے رب یقیناً ہم نے ایک منادی کرنے والے کو سنا ہے جو ایمان کی طرف منادی کر رہا تھا، جو تیری طرف سے بھیجا ہوا تھا اور ہم kh5-030425