خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 594
خطبات مسرور جلد چهارم 594 خطبہ جمعہ یکم دسمبر 2006 ء تمہاری صداؤں اور دعاؤں کا ہی کیا ذکر ہے، تمہارے مانگے بغیر ہی تمہارے دنیاوی آرام و آسائش کے لئے تمہارے سکون کے لئے رات اور دن بنا کر ہر ایک انسان پر اللہ تعالیٰ نے احسان کیا ہے، اور ایک بہت بڑا احسان ہے۔اس احسان کے بدلے میں ایک مومن بندے سے سوائے شکر کے جذبات کے کسی اور اظہار کا سوال ہی پیدا نہیں ہونا چاہئے ایک مومن سے کسی دوسرے اظہار کی توقع ہی نہیں کی جاسکتی۔پس اس شکر گزاری کے جذبات کے نتیجہ میں ہمیشہ اللہ تعالیٰ جو تمہارا رب ہے اس کی عبادت کی طرف توجہ رہے اور کبھی کوئی ایسا موقع نہ آئے جب تم شیطان کے بہکاوے میں آ جاؤ۔اس لئے ہوش کرو اور ہمیشہ ان نعمتوں کو یاد کرتے رہو جن میں زمین و آسمان اور اس کے اندر اور درمیان کی کائنات کی ہر چیز شامل ہے اور جس میں اس نے تمہاری بقا کے سامان مہیا کئے ہوئے ہیں۔پھر تمہاری جسمانی ساخت ہے، تمہارے قوی ہیں، تمہارے اعضاء ہیں، تمہاری اچھی شکلیں ہیں، تمہارے کھانے پینے اور اوڑھنے پہننے کے لئے بے شمار رزق اور نعمتوں کی قسمیں تمہیں مہیا کی ہیں۔دیکھیں فصلوں میں سے ہی اللہ تعالیٰ نے جو ہمارا رب ہے، ہمارے لئے مختلف قسم کی چیزیں مہیا فرمائی ہیں ،کھانے کے لئے خوراک کا بھی انتظام ہے جس کی بے شمار قسمیں ہیں، پینے کے سامان بھی اللہ تعالیٰ کی نباتات میں سے ہی مہیا ہو جاتے ہیں تن ڈھانپنے کے لئے کپڑوں کا انتظام ہے وہ بھی فصل میں سے مہیا ہو جاتا ہے۔پھر خشکی اور تری کے پرندے اور جانور ہیں، اُن میں بھی اللہ تعالیٰ نے کھانے کے سامان مہیا فرمائے ہیں۔سمندر کے پانی کے اندر رہنے والی چیزوں میں بھی ہسمندر کے اوپر بھی ، پانی کے اوپر رہنے والے پرندوں میں سے بھی اور خشکی میں رہنے والے پرندوں اور جانوروں میں سے بھی۔پھر ان میں سے کھانے کے سامان کے ساتھ ساتھ ہماری زندگیوں کے لئے پینے کے سامان بھی مہیا فرمائے ہیں۔سردی گرمی سے بچانے کے لئے بھی جانوروں میں سے سامان مہیا فرمایا اور سواری کے سامان بھی مہیا فرمائے ہیں۔خوبصورت لباس مہیا کرنے کے لئے ہمارے رب نے ایک کیڑے کو اس کام پر لگایا ہوا ہے جو محنت کرتا ہے اور ہمارے لئے اچھا ریشم مہیا کرتا ہے، جس کو پہن کر اکثر لوگ بجائے شکر گزاری کے جذبات کے اس کو اپنے لئے بڑائی اور تفاخر کا ذریعہ بنالیتے ہیں۔پھر اس زمانے میں اگر جانوروں کو سواری کے استعمال کے لئے متروک کیا یا کم استعمال میں آئے تو زمین سے ایک ایسی توانائی مہیا کر دی جس کی مدد سے زمین کے سفر بھی آسان ہو گئے ہیں ، سمندر کے سفر بھی آسان ہو گئے ہیں، فضاؤں کو بھی اس کی مدد سے انسان نے منظر کر لیا ہے۔غرض اللہ تعالیٰ نے ہمیں زمین و آسمان کی جو نعمتیں مہیا فرمائی ہیں، زمین و آسمان کی جو چیزیں ہمارے رب نے ہماری خدمت کے لئے لگائی ہوئی ہیں یہ بے شمار ہیں جن کے نام لیتے چلے جائیں تو ایک لمبی فہرست بن جائے گی۔kh5-030425