خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 579
خطبات مسرور جلد چهارم 579 خطبہ جمعہ 17 نومبر 2006 ء نہیں ہو سکتی۔دوسرے یہ بھی ثابت ہوا کہ ارتقاء کا جو مسئلہ ہے یہ بالکل درست ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو ادنیٰ سے اعلیٰ تک لے کر جاتا ہے اور ہر چیز اس دائرے کے اندر ہے۔اور ساتویں بات یہ ہے کہ رب کے معنے کسی چیز کو مختلف وقتوں اور مختلف درجوں میں ترقی دے کر کمال تک پہنچانا ہیں۔اس لئے ارتقاء بھی مختلف درجوں اور وقتوں میں حاصل ہوتا ہے۔آٹھویں بات یہ ہے کہ ارتقاء اللہ تعالیٰ کے وجود کے منافی نہیں ہے بلکہ اس ترقی کی طرف قدم سے وہ قابل تعریف اور حمد کا مستحق ٹھہرتا ہے اور مومن ہر ترقی پر الْحَمْدُ لِلہ پڑھتا ہے۔نویں بات یہ کہ انسان لا متناہی ترقیات کے لئے پیدا کیا گیا ہے، اس کا قدم پہلے سے آگے بڑھنا چاہئے۔علم میں آگے بڑھو، نیکیوں میں آگے بڑھو، عبادتوں میں آگے بڑھو اور پھر رب العالمین کا شکر ادا کرو کہ اس نے اپنی ربوبیت کے تحت ہمیں یہ مواقع عطا فرمائے۔صوفیاء کی قسم کے بعض نام نہاد بزرگ ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے خدا تعالیٰ کو پالیا ہے اس لئے اب عبادتوں کی ضرورت نہیں ہے، نمازوں کی بھی ضرورت نہیں ہے، جو حاصل کرنا تھا کر لیا۔جبکہ صفت ربّ جو ہے وہ تو انسان کو انتہا تک کے راستے دکھاتی چلی جارہی ہے۔اور آخری بات یہ ہے کہ اسلام کیونکہ رب العالمین کی صفت کا کامل مظہر ہے اور سب دنیا کی طرف آیا ہے، پہلے مذاہب کی طرح صرف ان خاص قوموں کی طرف نہیں آیا جن میں وہ نبی مبعوث ہوئے تھے، لہذا اسلام کے آنے کے بعد اب اللہ تعالیٰ کی کامل حمد شروع ہوگئی ہے۔یعنی اسلام ہے جو اس رب العالمین نے جسمانی عالم میں بھی اور روحانی عالم میں بھی اتحاد کے لئے اب بھیجا ہے۔تمام قوموں کا ، تمام ملکوں کا ایک ہی خدا ہے جو رب العالمین ہے۔پس اس رب کی طرف اکٹھا ہونے میں ہی آج دنیا کی بقا ہے اور نجات ہے۔پس ہم جو احمدی کہلاتے ہیں ہمارا فرض بنتا ہے کہ اس رب کا جورب العالمین ہے، تمام جہانوں کا رب ہے ، وہ جو کائنات کی تمام مخلوق کو پیدا کرنے والا اور ان کو نقطہ انتہاء تک پہنچنے کی طرف لے جانے والا ہے، اس رب کا پیغام تمام دنیا کو پہنچا کر تمام دنیا کو اس کے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع کریں۔یہی ایک ذریعہ ہے جس سے ہم ساری دنیا کو رب العالمین کی پہچان کروا سکتے ہیں۔جیسا کہ میں نے کہا تھا کہ قرآن کریم کے شروع میں بھی اللہ تعالیٰ نے اپنی ربوبیت کی طرف توجہ دلائی ہے اور آخر میں بھی ربوبیت پر قائم رہنے کی دعا سکھائی ہے تا کہ ایک مومن اس کو مالک گل اور معبود گل سمجھتے ہوئے ، اس کی طرف جھکتے ہوئے ہر شر سے اس کی پناہ میں رہے۔اور جیسا کہ میں نے بتایا تھا کہ اللہ تعالیٰ kh5-030425