خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 50 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 50

خطبات مسرور جلد چهارم 50 50 خطبہ جمعہ 20 /جنوری 2006ء اللہ تعالیٰ یہ دوریاں اور پابندیاں جلد ختم فرمائے۔قادیان والے اور مہمان آتے جاتے سڑکوں پر نظر آتے تھے۔جس وقت بھی جاؤ یوں لگتا تھا جس طرح ان کو پہلے سے ہی پتہ ہے کہ کس وقت میں نے سڑک پر آنا ہے۔کھڑے ہوتے تھے سڑکوں پر۔سلام ہو رہے ہیں ، دعائیں مل رہی ہیں، نعرے بلند ہو رہے ہیں۔پھر مختلف اوقات میں میں دیکھتا رہا ہوں، بیت الدعا میں ، بیت الفکر میں ، مسجد مبارک میں لوگ یا نفل پڑھ رہے ہوتے تھے یا نفل پڑھنے کے لئے اپنی باری کا انتظار کر رہے ہوتے تھے۔اللہ کرے کہ یہ دعاؤں اور نوافل کی عادت ان کی زندگی کا مستقل حصہ بن جائے بلکہ ہر احمدی کی زندگی کا مستقل حصہ بن جائیں۔یاد رکھیں کہ خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کے حضور کی گئی دعائیں ہی ہیں جور بوہ کے راستے بھی کھولیں گی اور قادیان کے راستے بھی کھولیں گی اور مدینہ اور مکہ کے راستے بھی کھولیں گی ، انشاء اللہ تعالی۔اس سفر میں ہوشیار پور جانے کا بھی موقع ملا اور اس گھر میں بھی جہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے چلہ کاٹا تھا اور آپ کو موعود بیٹے کی بشارت ملی تھی یعنی حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی۔ایک عرصے سے اس عمارت کی جماعتی تاریخی حیثیت ہونے کے لحاظ سے کوشش تھی کہ جماعت اس کو خرید لے۔تو چند سال پہلے جماعت کو خریدنے کی توفیق ملی اس کو ٹھیک ٹھاک کرایا گیا۔اس کمرے میں بھی دعا کی توفیق ملی ، مجھے بھی اور جو میرے ساتھی تھے ان کو اور قافلے کے لوگوں کو بھی۔اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعاؤں سے ہمیں ہمیشہ فیضیاب فرماتا رہے۔جب قادیان پہنچا ہوں تو وہاں کے رہنے والوں کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو نکل رہے تھے۔جب واپس آرہا تھا تو جدائی کے غم کے آنسو تھے۔پس قادیان والوں سے بھی میں کہتا ہوں کہ اس جدائی کے غم کو دور کرنے کے لئے اور دوبارہ اور بغیر کسی روک کے ملنے کے لئے ان آنسوؤں کو ہمیشہ بہنے والا بنالیں۔اور اہل پاکستان بھی اور اہل ربوہ بھی ہمیشہ اپنے آنسوؤں کو اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتے ہوئے بہنے والا بنالیں۔اپنی عبادتوں کو ہمیشہ زندہ رکھیں اور اللہ تعالیٰ کے حضور اتنا گڑ گڑا ئیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی خاص رحمت فرماتے ہوئے ہماری کامیابی کی منزلیں نزدیک تر کر دے۔آمین۔kh5-030425