خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 547 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 547

خطبات مسرور جلد چهارم 547 خطبہ جمعہ 27 /اکتوبر 2006 ء پس ہمارا کام ہے کہ دعا کرتے چلے جائیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مختلف وقتوں کی مختلف حالتوں کی دعائیں سکھائی ہیں۔اور اس زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو حالات کے مطابق بعض دعائیں بتائیں جو میں پہلے بھی بتاتا رہا ہوں ان کو ہمیں دہرانا چاہئے ، پڑھنا چاہئے۔اور سب سے بڑی بات جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ پہلے فرائض کی ادائیگی اور پھر نوافل کی طرف توجہ بہت ضروری ہے۔آخر میں پھر میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک اقتباس پڑھ کر آپ کے خلاف جو ہرزہ سرائی کرنے والے ہیں ان کو اللہ تعالیٰ کا خوف کھانے کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔”اے سونے والو بیدار ہو جاؤ۔اے غافلو اٹھ بیٹھو کہ ایک انقلاب عظیم کا وقت آگیا۔یہ رونے کا وقت ہے، نہ سونے کا۔اور تضرع کا وقت ہے، نہ ٹھٹھے اور بنسی اور تکفیر بازی کا۔دعا کرو کہ خداوند کریم تمہیں آنکھیں بخشے تا ئم موجودہ ظلمت کو بھی بتمام و کمال دیکھ لو اور نیز اُس نور کو بھی جو رحمت الہیہ نے اس ظلمت کے مٹانے کیلئے تیار کیا ہے پچھلی راتوں کو اٹھو اور خدا تعالیٰ سے رو رو کر ہدایت چاہو اور ناحق حقانی سلسلہ کے مٹانے کیلئے بددعا ئیں مت کرو اور نہ منصوبے سوچو۔خدا تعالیٰ تمہاری غفلت اور بھول کے ارادوں کی پیروی نہیں کرتا۔وہ تمہارے دماغوں اور دلوں کی بیوقوفیاں تم پر ظاہر کرے گا اور اپنے بندہ کا مددگار ہوگا اور اس درخت کو کبھی نہیں کاٹے گا جس کو اس نے اپنے ہاتھ سے لگایا ہے۔کیا کوئی تم میں سے اپنے اس پودہ کو کاٹ سکتا ہے جس کے پھل لانے کی اس کو توقع ہے۔پھر وہ جو دانا و بینا اور ارحم الراحمین ہے وہ کیوں اپنے اس پودہ کو کاٹے جس کے پھلوں کے مبارک دنوں کی وہ انتظار کر رہا ہے۔جبکہ تم انسان ہو کر ایسا کام کرنا نہیں چاہتے پھر وہ جو عالم الغیب ہے جو ہر ایک دل کی تہ تک پہنچا ہوا ہے۔کیوں ایسا کام کرے گا۔پس تم خوب یا درکھو کہ تم اس لڑائی میں اپنے ہی اعضاء پر تلوار میں مار رہے ہو۔سو تم ناحق آگ میں ہاتھ مت ڈالو ایسا نہ ہو کہ وہ آگ بھڑ کے اور تمہارے ہاتھ کو بھسم کر ڈالے۔یقیناً سمجھو کہ اگر یہ کام انسان کا ہوتا تو بہتیرے اس کے نابود کرنے والے پیدا ہو جاتے اور نیز یہ اس اپنی عمر تک ہرگز نہ پہنچتا جو بارہ برس کی مدت اور بلوغ کی عمر ہے۔( یہ آئینہ کمالات اسلام کا حوالہ ہے جو 1893 ء میں لکھی گئی تھی اب تو 117 سال ہو چکے ہیں ) کیا تمہاری نظر میں کبھی کوئی ایسا مفتری گزرا ہے کہ جس نے خدا تعالیٰ پر ایسا افترا کر کے کہ وہ مجھ سے ہم کلام ہے پھر اس مدت مدید کے سلامتی کو پالیا ہو۔افسوس کہ تم کچھ بھی نہیں سوچتے اور قرآن کریم کی ان آیتوں کو یاد نہیں کرتے جو خود نبی کریم کی نسبت اللہ جلشانہ فرماتا ہے اور کہتا ہے کہ اگر تو ایک ذرہ مجھ پر افترا کرتا تو میں تیری رگ جان کاٹ دیتا۔پس نبی کریم سے زیادہ ترکون عزیز ہے کہ جو اتنا بڑا افترا kh5-030425